بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیافریقہ کو امداد نہیں، شراکت داری درکار ہے: جنوبی افریقی صدر

افریقہ کو امداد نہیں، شراکت داری درکار ہے: جنوبی افریقی صدر
ا

ٹوکیو (مشرق نامہ) – جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے کہا ہے کہ افریقہ کو عطیات یا امداد کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے شراکت داروں کی تلاش ہے جو پائیدار ترقی، مشترکہ صنعتی ترقی اور قدر کی مشترکہ تخلیق کے اصولوں کو سمجھتے ہوں۔

وہ ٹوکیو میں منعقدہ ٹوکائیو انٹرنیشنل کانفرنس آن افریکن ڈیولپمنٹ (TICAD) کے معاشی سیشن سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے زور دیا کہ افریقہ تیزی سے بدلتی عالمی معیشت میں اپنے مستقبل کو خود تشکیل دینے کے لیے تیار ہے۔

رامافوسا نے کہا کہ افریقہ امداد نہیں مانگ رہا، یہ ایسے شراکت دار چاہتا ہے جو پائیدار ترقی، مشترکہ صنعتی ترقی اور قدر کی مشترکہ تخلیق کو سمجھتے ہوں۔
ان کے اس مؤقف نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شریک مندوبین سے بھرپور توجہ حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ افریقہ اور بالخصوص جنوبی افریقہ عالمی معاشی غیر یقینی حالات، تجارتی ڈھانچوں میں تبدیلی اور نئی صنعتی انقلابات کے عروج کا جرأت مندانہ اصلاحات اور اسٹریٹیجک وژن کے ساتھ جواب دے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی افریقہ اپنی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب اور برقرار رکھا جا سکے۔

رامافوسا نے بتایا کہ جنوبی افریقہ نے توانائی کی فراہمی کو مستحکم کر لیا ہے اور انفراسٹرکچر کی جدید کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں اور ریل نیٹ ورک کو نجی سرمایہ کاری کے لیے کھولا جا رہا ہے تاکہ مقامی پیداوار، سبز توانائی اور علاقائی انضمام پر مبنی ری انڈسٹریلائزیشن ایجنڈا کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی افریقہ کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے، خصوصاً الیکٹرک گاڑیوں، گرین ہائیڈروجن، صحت کے شعبے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں۔ یہ شعبے ان سرمایہ کاروں کے لیے سنہری مواقع فراہم کرتے ہیں جو پائیدار اور قابل توسیع شراکت داری کے متلاشی ہیں۔

اپنی تقریر میں رامافوسا نے افریقی براعظمی آزاد تجارتی معاہدہ (AfCFTA) کو بھی مرکزی حیثیت دی، اسے افریقہ کے معاشی وژن کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقہ جاپانی اور دیگر عالمی کمپنیوں کے لیے افریقی مارکیٹ تک رسائی کا گیٹ وے بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم AfCFTA سیکرٹریٹ کے ساتھ مل کر آٹوموٹو، زرعی پروسیسنگ، فارماسیوٹیکلز اور ٹیکسٹائلز کے شعبوں میں ویلیو چین پروٹوکولز کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قوانین کے ہم آہنگی اور سرحدی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن پر بھی کام جاری ہے تاکہ تجارتی بہاؤ مزید مؤثر ہو سکے۔

امریکی تجارتی پالیسی پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے رامافوسا نے خبردار کیا کہ ایک ہی مارکیٹ پر حد سے زیادہ انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تجارتی شراکت داریوں میں تنوع کی اہمیت پر زور دیا اور جاپانی شراکت داروں سے ٹیرف کوآپریشن میں تعاون کی اپیل کی تاکہ افریقی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک رسائی میں آسانی ہو سکے۔

رامافوسا نے سرمایہ کاری کے لیے موافق ماحول قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کو بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل تبدیلی، ہنر مند افرادی قوت کی ترقی اور نوجوانوں کی اختراعات میں شراکت داری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ افریقہ کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ دنیا سے تعلقات کو امداد و عطیات کی بنیاد کے بجائے برابری پر مبنی شراکت داری میں بدلے:
آئیے مل کر ایک خوشحال مستقبل تعمیر کریں، نہ کہ عطیہ دہندگان اور مستحقین کے طور پر، بلکہ برابر کے شراکت داروں کی حیثیت سے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین