بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانوفاق کا صوبوں کے این ایف سی حصے میں کٹوتی کا منصوبہ

وفاق کا صوبوں کے این ایف سی حصے میں کٹوتی کا منصوبہ
و

اسلام آباد (مشرق نامہ) – وفاقی حکومت نے نئے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر مذاکرات سے قبل اپنے مؤقف کو حتمی شکل دینے کے لیے اندرونی مشاورت کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس میں مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں، جن کے تحت صوبوں کے حصے کا 10 سے 15 فیصد حصہ سماجی اور ماحولیاتی کارکردگی سے مشروط کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، وفاق بڑے ڈیموں کی تعمیر کے لیے وفاقی ڈویژیبل پول سے مخصوص فنڈز مختص کرنے اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سمیت دیگر خصوصی علاقوں کے لیے واضح رقوم مختص کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔

رواں ہفتے وزارتِ خزانہ کے دفتر، کیو بلاک میں حکومتی وزارتی ٹیم کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزرائے قانون، منصوبہ بندی، خزانہ، اقتصادی امور اور وزیرِاعظم کے اہم بیوروکریٹک معاونین شریک تھے۔

اجلاس کے بعد ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو 16 برس قبل دیے گئے حصے کا ایک حصہ واپس لینے کا کیس تیار کرے گی، جو یا تو اخراجات کم کرکے یا آمدنی سے حصہ لے کر ممکن بنایا جائے گا۔

وزارتِ خزانہ پانچ سالہ منصوبے پر مبنی ایک رپورٹ تیار کر رہی ہے، جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ موجودہ این ایف سی فارمولے کے تحت وفاق کی مالی حالت، قرضوں اور بجٹ خسارے کے تناظر میں کس حد تک بگڑتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہوگا کہ صوبوں کو ملنے والے ڈویژیبل پول کے 57.5 فیصد حصے کو کم کیا جائے اور ان اخراجات پر کٹ لگایا جائے جو دراصل صوبائی ذمہ داری ہیں مگر وفاق اپنی مجبوریوں کے تحت برداشت کر رہا ہے۔

اس ضمن میں منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے گزشتہ ماہ وزیرِاعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر وفاق کو شدید مالی دباؤ سے نکالنے کے لیے فوری طور پر این ایف سی مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا تھا۔

وفاق کو موجودہ فارمولے کے تحت ڈویژیبل پول کا صرف 42.5 فیصد حصہ ملتا ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے ترقیاتی اخراجات بھی اسی میں سے ادا کیے جاتے ہیں۔ قرضوں پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث وفاق کے پاس ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی گنجائش انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) جی ڈی پی کے 2018 میں 2.6 فیصد سے سکڑ کر 2025 میں صرف 0.8 فیصد رہ گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے منصوبہ بندی وزیر کی این ایف سی الٹنے کی تجویز پر اعتراضات اٹھائے ہیں جبکہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں کی جانب سے بھی مزاحمت کی توقع ہے۔

ابتدائی اجلاسوں میں یہ تجویز بھی زیرِ غور آئی کہ صوبوں کو فنڈز کی منتقلی کو تعلیمی، صحت، آبادی کے نظم و نسق اور ماحولیاتی اشاریوں میں بہتری کے ساتھ مشروط کیا جائے۔ ایک آپشن کے تحت صوبائی حصے کا کم از کم 10 سے 15 فیصد ان شعبوں میں کارکردگی سے جوڑنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح ایک وزارت نے تجویز دی ہے کہ ڈویژیبل پول سے پہلے ہی ایک حصہ علیحدہ کرکے بڑے ڈیمز اور اعلیٰ تعلیم کے منصوبوں کے لیے مختص کیا جائے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ ڈیمز اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکے ہیں اور صوبوں کو بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثرات کم کرنے کے لیے ڈویژیبل پول کا 1 فیصد ملتا ہے، اسی طرز پر نئے منصوبے بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

وفاقی حکومت اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے واضح فنڈز مختص کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ صوبوں کو منتقل ہونے والے فنڈز کو بلدیاتی اداروں کی سطح پر منتقلی سے بھی مشروط کرنے کی تجویز زیرِ بحث ہے۔

ذرائع کے مطابق، وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ وسائل کی تقسیم میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اور صوبوں کے آپس میں بھی عدم توازن موجود ہے۔ تاہم، نیا این ایف سی کمیشن تاحال تشکیل نہیں دیا گیا کیونکہ پچھلا ایوارڈ ایک ماہ قبل ختم ہو چکا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے ترجمان قمر عباسی نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

مزید بتایا گیا کہ وفاقی وزرا کی اس ہفتے کی مشاورت کے بعد اگلے ہفتے ایک اور اجلاس طلب کیا گیا ہے تاکہ باضابطہ این ایف سی مذاکرات سے قبل وفاق کے حتمی مؤقف کو طے کیا جا سکے۔

آئین کے تحت این ایف سی کا ہر پانچ سال بعد ازسرِنو تعین ضروری ہے تاکہ وسائل کی تقسیم منصفانہ اور موجودہ ضروریات کے مطابق ہو۔ آئین یہ بھی واضح کرتا ہے کہ صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد سے کم نہیں کیا جا سکتا، تاہم حکومت اس پابندی کو ڈویژیبل پول کے حجم میں کمی کے ذریعے بائی پاس کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وفاق کی ایک اہم تجویز یہ بھی ہوگی کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کیا جائے، جس کے لیے رواں مالی سال 722 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ آئینی طور پر یہ صوبائی دائرہ اختیار کا معاملہ ہے۔

حکومت کی جانب سے مجوزہ تجاویز میں صوبوں کے حصے کی تقسیم میں آبادی کے تناسب کا وزن 82 فیصد سے کم کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے تاکہ بڑے صوبے، خاص طور پر پنجاب، نئی تقسیم پر متفق ہو سکیں۔

وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے اپنے خط میں واضح کیا تھا کہ پندرہ سال پرانا این ایف سی ایوارڈ اپنی آئینی مدت پوری کرچکا ہے، اس کی ہر سال توسیع صوبوں اور وفاق کے درمیان اختلافِ رائے کے باعث ہو رہی ہے اور اب اس کا ازسرِنو جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ وفاق کو شدید مالی دباؤ سے نکالا جا سکے۔

مزید برآں، ماحولیاتی لچک (Environmental Resilience) کو نئے اشاریے کے طور پر شامل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، جس میں جنگلات کے رقبے، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت کے اقدامات اور شجرکاری کے منصوبے جیسے عوامل شامل ہوں گے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق، خیبر پختونخوا میں حالیہ تباہ کن سیلاب تیزی سے سکڑتی ہوئی جنگلاتی زمین کا نتیجہ ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین