بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیزیلنسکی نے روس کی سکیورٹی پلان میں چین کی شمولیت مسترد کر...

زیلنسکی نے روس کی سکیورٹی پلان میں چین کی شمولیت مسترد کر دی
ز

کیف / ماسکو (مشرق نامہ) – یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت یوکرین کی مستقبل کی سلامتی کے منصوبے میں چین کو بطور ضامن شامل کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ایسے ضامن ممالک کا کوئی فائدہ نہیں جو یوکرین کی ضرورت کے وقت مدد کے لیے آگے نہیں آئے۔

زیلنسکی نے کیف میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے ضامنوں کی ضرورت نہیں جو یوکرین کی مدد نہیں کرتے اور اس وقت بھی نہیں کیے جب ہمیں واقعی ان کی ضرورت تھی۔ ہمیں صرف ان ممالک سے سلامتی کی ضمانتیں چاہییں جو ہماری مدد کے لیے تیار ہیں۔

زیلنسکی کا یہ بیان ان کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد سامنے آیا، جہاں واشنگٹن نے یوکرین کے سلامتی کے فریم ورک کو مزید مستحکم بنانے کا وعدہ کیا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ اپنے فوجی یوکرین نہیں بھیجے گا، تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکہ فضائی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ یورپی رہنما اب بھی اپنے ممکنہ کردار اور تعاون پر غور کر رہے ہیں۔

روس کا مؤقف: چین کے بغیر سکیورٹی نامکمل

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بدھ کے روز کہا کہ یوکرین کے لیے کسی بھی قابلِ اعتماد سلامتی کے معاہدے میں روس اور ممکنہ طور پر چین کی شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے اس مجوزہ معاہدے کا حوالہ دیا جو جنگ کے ابتدائی مرحلے میں استنبول میں تیار کیا گیا تھا۔ تاہم، کیف نے اس وقت یہ منصوبہ اس بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ اس کے تحت روس کو دیگر ضامن ممالک کے اقدامات پر ویٹو کا حق حاصل ہوتا، اگر یوکرین پر حملہ کیا جاتا۔

زیلنسکی نے مزید کہا کہ انہیں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے "مثبت اشارے” ملے ہیں اور اتحادی ممالک کے فوجی و سلامتی حکام یوکرین کے لیے سلامتی ضمانتوں کا "فریم ورک” یا "معماری” تیار کر رہے ہیں، جس کی مزید تفصیلات آئندہ 7 سے 10 دن میں متوقع ہیں۔

پوتن سے ملاقات پر زیلنسکی کی مشروط آمادگی

ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کے تحت، زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی مشروط آمادگی ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو میں کسی بھی ملاقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

زیلنسکی نے ہنگری کے دارالحکومت بوداپسٹ میں ممکنہ اجلاس کے امکان کو بھی مسترد کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان "یوکرین کی حمایت کے مخالف” ہیں۔ اس کے بجائے انہوں نے "نیوٹرل یورپ” کے کسی مقام پر ملاقات کی تجویز دی، جس میں سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور ترکی شامل ہیں، جو پہلے ہی جنگ بندی مذاکرات کی میزبانی کر چکے ہیں۔

روس کا سخت مؤقف: نیٹو فوجی ناقابلِ قبول

روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین میں نیٹو فوجی امن فوجی کے طور پر بھی قابلِ قبول نہیں۔ ان کے مطابق روس کسی ایسے منصوبے کو سلامتی کی ضمانت کے طور پر تسلیم نہیں کرے گا۔

میدویدیف نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ دماغ سے خالی گالک مرغ مسلسل یہ شور مچائے جا رہا ہے کہ یوکرین میں فوج بھیجی جائے۔ واضح طور پر کہا جا چکا ہے کہ نیٹو کے امن فوجی ناقابلِ قبول ہیں۔ لیکن یہ بھونڈا مرغ مسلسل بانگ دیتا رہتا ہے تاکہ خود کو مرغی خانے کا بادشاہ ثابت کر سکے!

امریکی اور نیٹو سلامتی ضمانتوں پر پیش رفت

ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن یوکرین میں فوج بھیجنے پر کوئی "سرخ لکیر” قائم نہیں کر رہا۔ ایک سینیئر امریکی اہلکار نے امریکی جریدے پولیٹیکو کو بتایا کہ امن فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ میرا نہیں خیال کہ اس پر کوئی واضح سرخ لکیر ہے۔

تاہم بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے وضاحت دی کہ یوکرین میں امریکی فوجی تعینات نہیں ہوں گے۔
ترجمان کے مطابق امریکہ اپنے یورپی اتحادیوں کو فوجی مدد اور ہم آہنگی فراہم کر سکتا ہے لیکن براہِ راست فوجی تعیناتی کا کوئی منصوبہ نہیں۔

اسی دوران، جاپان اور آسٹریلیا سمیت 30 ممالک پر مشتمل ایک اتحاد یوکرین کے لیے طویل المدتی سلامتی ضمانتوں کا فریم ورک تیار کر رہا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے کے مطابق، اس منصوبے کی قیادت برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کر رہے ہیں۔

اس منصوبے کا مقصد کیف کی فوجی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، جس کے تحت:

یوکرین کے لیے بڑے امریکی اسلحہ پیکج کی فراہمی

مقامی سطح پر ڈرونز کی تیاری میں توسیع

یوکرین کی ایک مضبوط فوج کے قیام کو یقینی بنانا شامل ہے۔

روس کی سرخ لکیریں

روس نے واضح کر دیا ہے کہ یوکرین میں نیٹو کے کسی بھی فوجی وجود کو "امن فوجی” کے عنوان سے بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ایسا کوئی بھی اقدام ماسکو کے لیے "ناقابلِ قبول خطرہ” ہوگا۔ دمتری میدویدیف نے مزید خبردار کیا کہ روس کی رضامندی کے بغیر تعینات کیے گئے نیٹو امن فوجی "جائز اہداف” قرار پائیں گے۔

روس نے یوکرین کے لیے ایک مجوزہ امن منصوبہ بھی پیش کیا ہے جس میں درج ذیل اہم شرائط شامل ہیں:

نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع روکنے کی تحریری ضمانت

یوکرین، جارجیا اور مالدووا کی نیٹو رکنیت کے امکانات کو ختم کرنا

یوکرین کی غیرجانبداری آسٹریا کے ماڈل پر قائم کرنا

یوکرین کی سرزمین پر غیرملکی فوجی اڈے قائم کرنے پر پابندی

روسی اثاثوں پر عائد پابندیوں میں جزوی نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی

یوکرین میں روسی بولنے والی آبادی کے حقوق اور تحفظ کی ضمانت

مقبول مضامین

مقبول مضامین