تہران/قاہرہ (مشرق نامہ) – تہران اور قاہرہ نے غزہ میں خونریزی روکنے، انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے اور اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف علاقائی اقدامات کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ان کے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی کے درمیان بدھ کی شب دیر گئے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں غزہ سٹی پر فوجی قبضے اور اس کے رہائشیوں کی جبری بے دخلی کے اسرائیلی منصوبوں کی شدید مذمت کی گئی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے غزہ کی محصور آبادی کے خلاف جاری "اسرائیلی نسل کشی پر مبنی جرائم” پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ان اقدامات کو "غیر قانونی اور مجرمانہ” قرار دیا جو فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران خونریزی روکنے اور محصور شہریوں تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور دیا گیا۔ بدر عبدالعاطی نے مصر اور قطر کی مشترکہ کوششوں پر روشنی ڈالی جو جنگ بندی کے حصول کے لیے جاری ہیں، جبکہ عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران اور دیگر ممالک کی جانب سے جدہ میں آئندہ ہفتے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کی تجویز دی گئی ہے۔
عراقچی کے مطابق، اس اجلاس میں فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل کے "گریٹر اسرائیل” منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق رائے قائم کیا جائے گا، جو خطے کی مزید اسلامی و عرب اراضی پر قبضے کی سازش کا حصہ ہے۔
مسجد اقصیٰ آتشزدگی کی برسی پر حماس کا انتباہ
ادھر، مسجد اقصیٰ میں آتشزدگی کے 56 ویں سال کے موقع پر جاری بیان میں حماس نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے مسجد کی اسلامی شناخت مٹانے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوگی۔
حماس نے واضح کیا کہ 21 اگست 1969 کو آسٹریلوی انتہاپسند مائیکل ڈینس روحان نے مسجد اقصیٰ کے جنوبی حصے میں واقع قبلی مسجد کے مشرقی حصے کو آگ لگائی تھی، جس سے تاریخی منبرِ صلاح الدین بھی تباہ ہوگیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کے گزشتہ 22 ماہ سے جاری جرائم، غزہ پر مسلط محاصرے، قتل عام، بستیوں کی توسیع، یہودکاری کی پالیسیوں اور مسجد اقصیٰ کے خدوخال مٹانے یا اسے وقتی و مکانی طور پر تقسیم کرنے کی کوششوں کو شدید الفاظ میں مسترد کیا جاتا ہے۔
حماس نے واضح کیا کہ نام نہاد "تیسری ہیکل” کی تعمیر کے منصوبے بھی ناکامی سے دوچار ہوں گے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ القدس اور مسجد اقصیٰ فلسطینی جدوجہد کا لازوال نشان اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کا محور رہیں گے اور یہ کہ اسرائیل کسی بھی صورت مسجد اقصیٰ کے ایک انچ پر بھی خودمختاری یا اختیار حاصل نہیں کر سکے گا، چاہے جدوجہد کتنی ہی طویل ہو یا قربانیاں کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہوں۔

