باجوڑ (مشرق نامہ) – باجوڑ کے ضلع میں ایک زیرِ تعمیر مسجد کے اندر نصب کیا جانے والا بارودی مواد اچانک پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 30 سے زائد دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق دہشتگرد مسجد کو دہشتگردی کی سرگرمیوں کا مرکز بنائے ہوئے تھے اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جب دھماکہ اچانک ہو گیا اور پوری عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کی لاشیں ملبے تلے دب گئیں، جبکہ علاقے میں تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ باجوڑ کے دور افتادہ ہلکی چرمنگ علاقے میں پیش آیا، جہاں سیکیورٹی فورسز انسدادِ دہشتگردی آپریشن میں مصروف ہیں۔ ٹی ٹی پی دہشتگرد اس مسجد کو اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
دوسری جانب جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک علاقے میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب خفیہ اطلاع پر کیے گئے ایک بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران کم از کم 15 دہشتگرد مارے گئے، جن میں ایک ممکنہ خودکش بمبار بھی شامل تھا۔ ذرائع کے مطابق برمل تحصیل کے کرمزی اسٹاپ کے قریب کرمزئی خیل مسجد میں موجود دہشتگردوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی، جس کے بعد شدید جھڑپ ہوئی اور دہشتگردوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
جھڑپ کے دوران دو مارٹر گولے قریبی آبادی پر گرے، جس کے نتیجے میں دو مرد، دو خواتین اور چار بچیاں زخمی ہوئیں۔ زخمیوں کو وانا ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی۔
ادھر شمالی وزیرستان کے ضلع میں دو علیحدہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک پولیس اہلکار اور ایک قبائلی نوجوان جاں بحق ہو گئے۔ پہلے واقعے میں میر علی بازار کے قریب مسلح افراد نے پولیس کانسٹیبل شعیب کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، جبکہ دوسرے واقعے میں ایک نوجوان کو اغوا کے بعد گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ تاحال کسی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
شہید کانسٹیبل کے والد نے حکومت اور خیبرپختونخوا پولیس سے مطالبہ کیا کہ بیٹے کی قربانی رائیگاں نہ جائے اور قاتلوں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
مقامی قبائلی عمائدین اور سماجی کارکنوں نے بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔

