بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیترکی کی بندرگاہوں پر اسرائیل سے عدم تعلق کی یقین دہانی لازمی

ترکی کی بندرگاہوں پر اسرائیل سے عدم تعلق کی یقین دہانی لازمی
ت

استنبول (مشرق نامہ) – ترکی کے بندرگاہی حکام نے شپنگ کمپنیوں کے لیے ایک نیا تقاضا عائد کیا ہے جس کے تحت انہیں تحریری طور پر یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ ان کے جہاز اسرائیل نہیں جا رہے اور نہ ہی وہ اسرائیل کے لیے کوئی خطرناک یا عسکری سامان لے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام رائٹرز کے مطابق پیر کے روز غیر رسمی زبانی ہدایات کی صورت میں تمام ترک بندرگاہوں پر نافذ کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ سرکلر جاری نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس یقین دہانی کا مقصد یہ تصدیق کرنا ہے کہ بحری جہاز کے مالکان، آپریٹرز اور مینیجرز کا اسرائیلی قبضے سے کوئی تعلق نہیں، جہاز پر دھماکہ خیز مواد، تابکار اشیا یا عسکری سازوسامان موجود نہیں اور نہ ہی یہ سامان ترک بندرگاہوں کے ذریعے اسرائیل پہنچایا جائے گا۔

یہ اقدام خطے میں بڑھتی کشیدگی اور اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات پر جاری بحث کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ فوجی اور خطرناک سامان کی درآمدات و برآمدات پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے، ایسے وقت میں جب غزہ پر اسرائیلی جارحیت شدت اختیار کر رہی ہے اور اسرائیل نے غزہ سٹی پر قبضے کا منصوبہ آگے بڑھا دیا ہے۔

غزہ میں شہدا کی تعداد 62 ہزار سے تجاوز کر گئی

20 اگست کو غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 58 فلسطینی شہید اور 185 زخمی ہوئے ہیں۔ اس طرح 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہدا کی مجموعی تعداد 62,122 جبکہ زخمیوں کی تعداد 156,758 ہو گئی ہے۔

صرف 18 مارچ 2025 کے بعد سے اب تک 10,576 فلسطینی شہید اور 44,717 زخمی ہو چکے ہیں۔ شہدا میں وہ 22 افراد بھی شامل ہیں جو امدادی سامان حاصل کرنے کی کوشش کے دوران شہید ہوئے، جس سے امدادی شہدا کی کل تعداد 2,018 ہو گئی ہے جبکہ اس نوعیت کے زخمیوں کی تعداد 14,947 سے زائد ہے۔

اسرائیل کا "گیڈونز چیاریٹس” آپریشن کا دوسرا مرحلہ

اسرائیلی فوج نے غزہ پر قبضے کے منصوبے کے تحت "گیڈونز چیاریٹس (بی)” آپریشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق 162 ویں ڈویژن نے شمال مغربی علاقے جبالیا سے کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ غزہ سٹی کا محاصرہ سخت کیا جا سکے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ منصوبہ چار ماہ پر محیط دو اہم مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں جنوبی غزہ میں محدود ڈھانچے کے ساتھ نام نہاد "انسانی ہمدردی کے زون” قائم کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو غزہ سٹی سے نکالنے کا عمل تیز کیا جا سکے۔ اس کے بعد شہر کا مکمل محاصرہ کیا جائے گا۔

دوسرے مرحلے میں اسرائیلی افواج فضائی بمباری اور توپ خانے کی شدید گولہ باری کی مدد سے آہستہ آہستہ غزہ سٹی میں داخل ہوں گی، جس کا مقصد شہر پر مکمل قبضہ حاصل کرنا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین