غزہ (مشرق نامہ) – اسرائیل نے ایک خفیہ “پاپولیشن ری لوکیشن یونٹ” (آبادی کی منتقلی کا یونٹ) قائم کر لیا ہے، جس کا مقصد غزہ سٹی کے فلسطینی باشندوں کی نگرانی، ان کا نقشہ سازی اور بالآخر انہیں زبردستی بےدخل کرنا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ منصوبہ پمفلٹس، ٹیکسٹ میسجز اور گولہ باری کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت غزہ کی سب سے بڑی شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے تقریباً 10 لاکھ فلسطینیوں کو جبری طور پر بےدخل کر کے انہیں نیٹزریم کاریڈور کے جنوب میں دھکیلنے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ اقدام اسرائیل کے اکتوبر 2023 سے جاری نسل کشی کی جنگ کے دوران اب تک کا سب سے بڑا اور خطرناک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
آبادی کی منتقلی کا خفیہ یونٹ
یہ پیچیدہ انخلا منصوبہ جنوبی کمان کے زیر انتظام اس خصوصی یونٹ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جس کا انکشاف پہلی بار سامنے آیا ہے۔
یونٹ کا بنیادی کام غزہ کی آبادی کا تفصیلی نقشہ تیار کرنا، ان کے بارے میں انٹیلیجنس جمع کرنا اور ان کی زبردستی منتقلی کے لیے مختلف اقدامات کو مربوط بنانا ہے۔ اس میں رہائشیوں کو پمفلٹس تقسیم کرنا، ٹیکسٹ میسجز بھیجنا اور آخر میں گولہ باری کے ذریعے انہیں نکلنے پر مجبور کرنا شامل ہے۔
سابق اسرائیلی فوجی کمانڈر ایریز وینر کے مطابق، موجودہ جنگ میں یہ یونٹ مائیکرو لیول پر آپریشن کے لیے پہلے ہی مکمل طور پر تیار تھا۔ اس میں یہ تعین کیا گیا کہ نوٹیفکیشنز کب، کیسے اور کس کی جانب سے جاری کیے جائیں، اور ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ دوسری جانب واقعی ردعمل ہو اور لوگ اپنی جگہ چھوڑیں۔
اسرائیلی جنگی منصوبے میں تیزی
اسرائیل کے وزیر برائے فوجی امور اسرائیل کاتز نے منگل کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے فوجی سربراہ ایال زمیر اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کے ساتھ مل کر نئے آپریشنل منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
اس حکمتِ عملی کے تحت باقاعدہ بریگیڈز کو غزہ سٹی کے گرد گھیراؤ کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس کے لگ بھگ 10 لاکھ باشندے جنوبی علاقوں کی طرف نکلنے پر مجبور ہو جائیں۔
اقوام متحدہ کا ڈیٹا اور اسرائیلی "گاجر اور چھڑی” کی پالیسی
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق نسل کشی شروع ہونے سے قبل تقریباً 82 فیصد غزہ کے باشندے ان علاقوں میں رہتے تھے جنہیں اسرائیل نے پہلے ہی “انخلا زونز” قرار دے رکھا تھا۔
ایک سابق اسرائیلی فوجی ذریعے کے مطابق، اس منصوبے میں زبردستی بےدخل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک "ترغیب” کا عنصر بھی شامل ہے:
لوگوں کو نکلنے پر آمادہ کرنے کے لیے صرف چھڑی نہیں بلکہ گاجر بھی دکھانا ضروری ہے۔
اسی حکمتِ عملی کے تحت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کو اس منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے، تاہم اسرائیل نے اس امداد کا مکمل انتظام امریکی حمایت یافتہ جی ایچ ایف (GHF) فاؤنڈیشن کے سپرد کر رکھا ہے۔
امداد کے بہانے قتل عام
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 27 مئی کو اسرائیلی نگرانی میں جی ایچ ایف کے تحت امدادی پروگرام کے آغاز کے بعد سے اب تک تقریباً 1,924 فلسطینی شہید جبکہ 14 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
عینی شاہدین اور وہیل بلوئرز کا کہنا ہے کہ امداد لینے کے لیے آنے والے زیادہ تر شہریوں کو اسرائیلی قابض افواج یا جی ایچ ایف کے لیے کام کرنے والے امریکی “سکیورٹی کنٹریکٹرز” نے جان بوجھ کر گولیوں کا نشانہ بنایا۔
جنگ بندی مذاکرات اور اسرائیلی ہٹ دھرمی
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منگل کے روز قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی کہ غزہ کی حماس مزاحمتی تحریک نے ایک نئے جنگ بندی فارمولے پر مثبت ردعمل دیا ہے۔
تاہم، صیہونی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حماس کے جواب کا “جائزہ لے رہی ہے”، جبکہ دوسری طرف وہ اپنی جنگی منصوبہ بندی کو مزید تیز کر رہی ہے۔
حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم کے مطابق، منگل کے روز صیہونیوں کا ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ نیتن یاہو کے خفیہ عزائم نسل کشی کو طویل کرنے، بڑے پیمانے پر قتلِ عام جاری رکھنے اور نسلی تطہیر کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے ہیں۔

