واشنگٹن نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کے دو ججوں اور دو پراسیکیوٹرز پر پابندیاں عائد کردی ہیں جنہوں نے امریکی فوجیوں اور اسرائیلی حکام کے خلاف مقدمات آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بدھ کے روز جاری بیان کے مطابق جج کمبرلی پروسٹ کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے دی ہیگ میں قائم عدالت کی جانب سے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مبینہ جرائم کی تحقیقات کی منظوری دی تھی۔
اسی طرح جج نکولس یان گلیو پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں کیونکہ انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹرز نذہت شمیِم خان اور مامی منڈیاے نیانگ کو بھی وارنٹس برقرار رکھنے کے فیصلے پر بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ امریکہ اور نہ ہی اسرائیل آئی سی سی کا رکن ہے۔
آئی سی سی نے ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام "ایک غیر جانبدار عدالتی ادارے کی آزادی پر صریح حملہ” ہے جو 125 رکن ممالک کے مینڈیٹ کے تحت کام کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں عدالت پر اپنی پہلی پابندیاں لگائی تھیں، یہ کہتے ہوئے کہ آئی سی سی کے اقدامات "غیر قانونی اور بے بنیاد” ہیں کیونکہ وہ امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی اسرائیل کو نشانہ بناتے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے بھی گرفتاری کے وارنٹس کے فیصلے کو "یہود دشمن” قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔
یاد رہے کہ 2024 میں آئی سی سی نے نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس اس بنیاد پر جاری کیے تھے کہ "معقول شواہد” موجود ہیں کہ اسرائیل نے غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد کی ترسیل روک دی، جہاں 2023 سے اب تک 60 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

