بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیچینی ریفائنریز کی روسی تیل درآمدات میں اضافہ

چینی ریفائنریز کی روسی تیل درآمدات میں اضافہ
چ

سی این این کے مطابق، چین کی تیل صاف کرنے والی کمپنیوں نے روسی خام تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ بھارت نے امریکی دباؤ کے باعث خریداری عارضی طور پر کم کر دی تھی۔

یوکرین جنگ کے بعد 2022 میں مغربی پابندیوں کے نتیجے میں چین اور بھارت روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار بن گئے تھے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بھارتی درآمدات پر 25 فیصد نیا ٹیرف عائد کر دیا ہے جو 27 اگست سے نافذ ہوگا۔ اس اقدام سے قبل بھی بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ نہ ہونے پر ٹرمپ نے پہلے ہی 25 فیصد ڈیوٹی عائد کی تھی۔ نئے فیصلے کے بعد بھارت کی اسٹیٹ ریفائنریز نے روسی تیل کی درآمدات عارضی طور پر روک دی ہیں، جو پہلے قومی سپلائی کا 36 فیصد حصہ تھیں۔

توانائی تجزیہ کار میو ژو کے مطابق، چین کی ریاستی اور بڑی نجی ریفائنریز نے اکتوبر کے لیے روسی خام تیل کے تقریباً 13 کارگو خریدے ہیں، جبکہ نومبر کے لیے بھی کم از کم دو کارگو محفوظ کیے گئے ہیں۔ یہ تیل روس کے آرکٹک اور بلیک سی پورٹس سے روانہ کیا جائے گا، جو عموماً بھارت کو سپلائی کرتے ہیں۔ ژو نے اسے "موقع پرستانہ قدم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی خام تیل مشرقِ وسطیٰ کے متبادل کے مقابلے میں فی بیرل تقریباً 3 ڈالر سستا ہے، اور امکان ہے کہ چین مستقبل میں بھی درآمدات میں اضافہ کرے گا کیونکہ ٹرمپ بھارت پر مزید دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اگرچہ یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ روسی تیل کی خریداری پر چین پر بھی ٹیرف لگا سکتے ہیں، لیکن فاکس نیوز سے گفتگو میں واضح کیا کہ فی الحال ایسا کوئی فیصلہ زیر غور نہیں ہے۔

دوسری جانب، بلومبرگ اور رائٹرز کے مطابق بھارت نے مختصر وقفے کے بعد روسی تیل کی خریداری دوبارہ شروع کر دی ہے۔ انڈین آئل اور بھارت پٹرولیم نے ستمبر اور اکتوبر کے لیے روسی تیل کی شپمنٹس حاصل کر لی ہیں۔ بھارت نے ٹرمپ کے ٹیرف کو "غیر منصفانہ، بلاجواز اور غیر مناسب” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ توانائی کی سلامتی کو سیاسی دباؤ پر فوقیت دی جائے گی۔

بدھ کو ماسکو میں بین الحکومتی اجلاس کے دوران روسی نائب وزیراعظم ڈینس مانتوروف نے تصدیق کی کہ ماسکو بھارت کو خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری رکھے گا۔ بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے، جو تین روزہ دورے پر ماسکو میں موجود ہیں، دوطرفہ تعلقات کو سراہا اور روسی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ بھارتی کاروباروں کے ساتھ تعاون مزید بڑھائیں۔ دونوں ممالک نے اقتصادی روابط میں تنوع لانے اور 2030 تک دوطرفہ تجارت کا حجم 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کی بھی توثیق کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین