تل ابیب (مشرق نامہ) – اسرائیلی وزیرِ سلامتی اسرائیل کاتس نے بدھ کو غزہ شہر پر قبضے کے لیے صہیونی فوج (IOF) کے نئے فوجی منصوبے کی منظوری دے دی، جسے "گیڈیونز چیریٹس بی” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ آپریشن گیڈیونز چیریٹس کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
قابض ذرائع کے مطابق، اس منصوبے کا مقصد غزہ شہر کے باقی ماندہ ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے نئی فوجی کارروائیوں کا آغاز کرنا ہے، تاکہ پہلے سے زیرِ قبضہ علاقوں سے آگے بڑھتے ہوئے صہیونی فوج کا کنٹرول مزید وسعت اختیار کر سکے۔
ابتدائی آپریشن گیڈیونز چیریٹس کو میڈیا اور سکیورٹی ماہرین نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا کیونکہ یہ غزہ پر مسلط کردہ جنگ کے بظاہر بیان کردہ مقاصد سے متصادم تھا۔ دعویٰ تو یہ کیا گیا تھا کہ اس آپریشن کا مقصد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہدف اس منصوبے کی ترجیحات میں سب سے آخر میں رکھا گیا تھا۔
اس آپریشن کا اصل مقصد غزہ میں حماس کے فوجی اور انتظامی ڈھانچے کا مکمل خاتمہ تھا، تاہم اس کے باوجود مزاحمتی فورسز اب بھی روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہی ہیں، جن کے نتیجے میں صہیونی فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
50 ہزار ریزروسٹ طلب
اخبار دی یروشلم پوسٹ کے مطابق، اس نئے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے صہیونی فوج نے 50 ہزار ریزروسٹ اہلکاروں کو طلبی کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جو پہلے سے موجود اہلکاروں کے علاوہ ہوں گے۔ یہ اقدام آئندہ بڑے پیمانے پر ممکنہ فوجی چڑھائی کے لیے افرادی قوت کو یقینی بنانے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔
دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ
اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے بھی غزہ شہر پر قبضے کے دو مرحلوں پر مشتمل منصوبے کی منظوری دے دی تھی۔
پہلے مرحلے میں عام شہریوں کو زبردستی بے دخل کر کے شہر کا محاصرہ کیا جائے گا۔ اس دوران غزہ کے جنوبی حصے میں نام نہاد "انسانی ہمدردی کے زونز” قائم کیے جائیں گے، جن میں بنیادی ڈھانچے کی سہولیات موجود ہوں گی، تاکہ شہریوں کی بڑے پیمانے پر جبری منتقلی کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے بعد زمینی کارروائی شروع کی جائے گی تاکہ شہر کو گھیر کر مزید انخلا پر مجبور کیا جا سکے۔
دوسرے مرحلے میں صہیونی فوج بتدریج غزہ شہر کے اندر داخل ہوگی اور سست رفتاری کے ساتھ شہری علاقوں پر قبضہ جمانے کی کوشش کرے گی، جبکہ فضائی حملے بھی ساتھ ساتھ جاری رہیں گے۔
تازہ شہادتیں اور اعداد و شمار
منگل کے روز غزہ کی وزارتِ صحت نے اطلاع دی کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں صہیونی حملوں کے نتیجے میں 60 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں سے دو لاشیں ملبے تلے سے نکالی گئیں، جبکہ 343 زخمی مختلف اسپتالوں میں پہنچائے گئے۔
7 اکتوبر 2023 سے اب تک صہیونی جارحیت کے نتیجے میں 62,064 فلسطینی شہید اور 156,573 زخمی ہو چکے ہیں۔ 18 مارچ 2025 کو جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک 10,518 شہادتیں اور 44,532 زخمیوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

