بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیفلسطین حامی آئرش ریپر کیخلاف 'دہشتگردی' مقدمے پر فیصلہ مؤخر

فلسطین حامی آئرش ریپر کیخلاف ‘دہشتگردی’ مقدمے پر فیصلہ مؤخر
ف

لندن (مشرق نامہ) – آئرش ریپ بینڈ کنی کیپ (Kneecap) کے رکن لیم اوگ اوہنّی (Liam Og O hAnnaidh)، جو اسٹیج پر مو چارا (Mo Chara) کے نام سے پرفارم کرتے ہیں، کو اپنے خلاف "دہشتگردی” کے الزام کے خاتمے پر عدالت کے فیصلے کے لیے ایک ماہ تک انتظار کرنا ہوگا۔

لیم اوہنّی نے لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ میں تین گھنٹے طویل سماعت میں شرکت کی، جہاں ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ عملی کارروائی کی خامیوں کی بنیاد پر خارج کر دیا جانا چاہیے۔

کنی کیپ بینڈ نے اس الزام کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ دراصل فلسطین کی کھل کر حمایت کرنے پر انہیں خاموش کرانے کی کوشش ہے۔ عدالت کے باہر سیکڑوں افراد آئرش اور فلسطینی جھنڈے اٹھائے جمع ہوئے اور "فری مو چارا” کے نعرے لگاتے رہے۔

الزام کے مطابق، 27 سالہ لیم اوہنّی نے گزشتہ نومبر لندن کے شمالی علاقے میں واقع O2 فورم میں ایک کنسرٹ کے دوران حزب اللہ کے حق میں ایک جھنڈا لہرایا، جو برطانیہ میں ایک ممنوعہ تنظیم قرار دی گئی ہے۔

ملزم کے وکیل برینڈا کیمبل کے سی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے 21 مئی کو لیم اوہنّی پر الزام عائد کیا، مگر یہ کارروائی اٹارنی جنرل کی اجازت کے بغیر کی گئی، حالانکہ قانون کے مطابق چھ ماہ کے اندر اندر یہ اجازت لازمی تھی۔

تاہم استغاثہ کے وکیل مائیکل بسگروو نے اس مؤقف کی مخالفت کی اور کہا کہ ایسی منظوری صرف اس وقت ضروری ہوتی ہے جب ملزم پہلی بار عدالت میں پیش ہو۔

چیف مجسٹریٹ پال گولڈ اسپرنگ نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے مقدمے کی اگلی کارروائی 26 ستمبر تک مؤخر کر دی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین