بدھ, فروری 18, 2026
ہوممضامینچین بھارت کو نایاب معدنیات اور کھاد کی برآمدات میں نرمی پر...

چین بھارت کو نایاب معدنیات اور کھاد کی برآمدات میں نرمی پر تیار
چ

نئی دہلی میں میڈیا رپورٹس کے مطابق چین نے بھارت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نایاب معدنیات، کھاد اور ٹنل بورنگ مشینوں سمیت اہم اقتصادی خدشات کے حل پر غور کرے گا۔

بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے منگل کو بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کے دوران یہ یقین دہانی کرائی۔ اس پیش رفت کی تصدیق بھارتی حکومت کے ذرائع نے بھی کی ہے۔

بھارتی اخبار ایکنامک ٹائمز کے مطابق وانگ یی نے جے شنکر کو بتایا کہ بیجنگ نے تینوں برآمدی زمروں پر بھارتی درخواستوں کا جواب دینا شروع کر دیا ہے اور کچھ کھیپیں بھی روانہ کر دی گئی ہیں۔

وانگ یی اس وقت تین روزہ دورے پر نئی دہلی میں موجود ہیں جہاں وہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے سرحدی معاملات پر بات کریں گے اور وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے۔

چین، جو نایاب مقناطیسی دھاتوں کا دنیا کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے، نے اپریل میں سات درمیانے اور بھاری نایاب معدنیات اور کچھ مقناطیس کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے باعث فضائی، آٹوموبائل اور سیمی کنڈکٹر صنعتوں کی سپلائی چین متاثر ہوئی تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بیجنگ نے کھاد اور ٹنل بورنگ مشینوں کی برآمدات پر بھی پابندیاں لگائی تھیں، جس سے زراعت اور انفراسٹرکچر منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔

پیر کو جے شنکر نے وانگ یی سے ملاقات میں کہا کہ بھارت چین کے ساتھ "مستحکم، تعمیری اور مستقبل پر مبنی تعلقات” کا خواہاں ہے۔

دوسری جانب، ایشیا کی دونوں بڑی معیشتیں اس وقت باہمی اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر غور کر رہی ہیں، کیونکہ دونوں کو امریکہ کی جانب سے بھاری ٹیرف کا سامنا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے شینہوا کے مطابق وانگ یی نے جے شنکر سے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، یکطرفہ دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ آزاد تجارت اور بین الاقوامی نظام کو بڑے خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اور بھارت کو بڑے ممالک کے طور پر عالمی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، مل کر کام کرنا چاہیے اور کثیر قطبی دنیا کے فروغ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین