بیجنگ (مشرق نامہ) – چین کی معروف بیٹری ساز کمپنی ہیتھیم نے پاکستان کی دی امپیریل الیکٹرک کمپنی (آئی ای سی) کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت پاکستان بھر میں رہائشی اور تجارتی مقامات کے لیے 1 گیگاواٹ آور تک کے جدید توانائی ذخیرہ کرنے والے نظام فراہم کیے جائیں گے۔ یہ شراکت داری چائنا انٹرنیشنل انرجی اسٹوریج ایگزیبیشن میں اعلان کی گئی۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کو جنوبی ایشیا کے سب سے غیرمستحکم پاور گرڈز میں سے ایک کے بحران کا سامنا ہے۔ صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر ماہ اوسطاً 31 مرتبہ بجلی بندش ہوتی ہے، جو سالانہ تقریباً 372 مرتبہ کاروبار اور گھریلو زندگی کو متاثر کرتی ہے۔
معاہدے کے تحت، آئی ای سی پاکستان میں ہیتھیم کے ہیرو ای ای ہوم انرجی اسٹوریج سسٹمز متعارف کرائے گی۔ یہ سسٹمز لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹریز پر مبنی ہیں جو سخت موسمی حالات میں بھی محفوظ، مؤثر اور پائیدار کارکردگی فراہم کرتے ہیں۔ دونوں کمپنیاں پاکستان کے توانائی کے مخصوص مسائل کے لیے مشترکہ طور پر کسٹمائزڈ اسٹوریج سلوشنز تیار کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہیں، جن میں بجلی کی بلند پیداواری لاگت، غیر مؤثر ترسیلی نظام اور درآمدی ایندھن پر انحصار جیسے چیلنجز شامل ہیں۔
پاکستان، جو 200 ملین سے زائد آبادی کا حامل ملک ہے، ہر سال 14 ارب ڈالر سے زیادہ تیل اور گیس کی درآمد پر خرچ کرتا ہے۔ 2021 کے بعد سے بجلی کی قیمتوں میں 155 فیصد اضافہ ہوا ہے جس نے گھریلو صارفین اور صنعت دونوں پر شدید مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ ہیتھیم کے مطابق اس کے ہیرو ای ای اسٹوریج سسٹمز بجلی کے اخراجات کو فی کلو واٹ آور 5 امریکی سینٹ تک کم کر سکتے ہیں، جو ڈیزل بجلی کی پیداوار کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا کم ہے۔
آئی ای سی کے گروپ آپریشنز ڈائریکٹر رضا کا کہنا تھا کہ یہ شراکت داری پاکستان کو جدید ترین اسٹوریج ٹیکنالوجی فراہم کرے گی اور ایسے قابلِ اعتماد حل دے گی جہاں مستحکم توانائی کی اشد ضرورت ہے۔
ہیتھیم کے ریزیڈنشل اسٹوریج ڈویژن کے وائس جنرل منیجر یو جیان یونگ نے کہا کہ یہ محض کاروباری اقدام نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔ ہماری ٹیکنالوجی اور آئی ای سی کے مقامی تجربے کو ملا کر ہم پاکستانی خاندانوں اور کاروباروں کو سستی اور قابلِ اعتماد توانائی تک منصفانہ رسائی دینا چاہتے ہیں۔
یہ معاہدہ پاکستان کے توانائی شعبے میں چینی سرمایہ کاری کے 13 ارب ڈالر سے زائد کے منصوبوں کا تسلسل ہے اور چین-پاکستان اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بناتا ہے۔ ہیتھیم کا کہنا ہے کہ یہ تعاون مستقبل میں بڑے پیمانے پر گرڈ اسٹوریج اور قابلِ تجدید توانائی منصوبوں تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ شراکت داری صرف جدید آلات کی فراہمی نہیں بلکہ مسلسل بجلی بحران، بلند لاگت اور درآمدی ایندھن پر انحصار سے نجات کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

