بیجنگ (مشرق نامہ) – چینی سائنس دانوں نے حال ہی میں دنیا کا پہلا ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو پودوں کی مکمل افزائش کے عمل کو سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے انضمام کو زرعی ذہین افزائش کے شعبے میں نمایاں کرتی ہے۔
اس نئے ماڈل کا نام جیئر (GEAIR) رکھا گیا ہے جو تجربے پر مبنی روایتی طریقہ کار کے بجائے افزائشِ نسل کو درست اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف جینیٹکس اینڈ ڈویلپمنٹل بایولوجی (IGDB) کے مطابق اس تحقیق کو پیر کے روز معروف جریدے سیل (Cell) میں شائع کیا گیا۔
سائنس فکشن فلموں کا منظر اب گرین ہاؤس میں حقیقت کا روپ دھار چکا ہے، جہاں جیئر نے نہایت درستگی کے ساتھ پھول کی نشاندہی کی اور روبوٹک بازوؤں کے ذریعے نرمی سے جرثومہ کشی (Hybrid Pollination) کا عمل مکمل کیا۔ یہ روبوٹ مؤثر انداز میں پودوں کے درمیان حرکت کرتا ہے اور افزائش کے پورے عمل کو درستگی کے ساتھ انجام دیتا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ کے محقق شو کاؤ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں بے پناہ امکانات ہیں جو ہائبرڈ افزائش کو درست اور سائنسی بنیادوں پر منتقل کر کے پیداوار میں اضافہ، لاگت میں کمی اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دے سکتے ہیں۔
ہائبرڈ افزائشِ نسل، جس کا مقصد فصلوں کی اعلیٰ کوالٹی اور زیادہ پیداوار کو یقینی بنانا ہے، اہم طریقہ ہے۔ تاہم، بڑے پیمانے پر بار بار کی جانے والی کراس پولینیشن (cross-pollination) کی کارروائیاں وقت طلب اور محنت طلب ہیں۔ شو کاؤ کے مطابق جیئر اس عمل میں نئی نسل کی ٹیکنالوجیز جیسے اسپیڈ بریڈنگ اپروچ استعمال کر کے اعلیٰ اقسام کی تیز رفتار اور مخصوص افزائش کو ممکن بنا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی بصری شناخت اور پوزیشننگ ٹیکنالوجیز کے ذریعے جیئر فصلوں کے درمیان درستگی کے ساتھ حرکت کرتا ہے اور کراس پولینیشن کا عمل انجام دیتا ہے، جس سے افزائش کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
شو کاؤ نے کہا کہ ہماری نئی تحقیق نے بایوٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور روبوٹ لیبر کو یکجا کر کے ایک ذہین افزائشی ماڈل کی بنیاد رکھی ہے، جو چین کی کامیاب پیش قدمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بند دائرہ (Closed-loop) ٹیکنالوجی سسٹم کی تشکیل ہے جو روبوٹائزڈ ہائبرڈ افزائش کے شعبے میں ایک سنگ میل ہے۔

