ٹیکسلا (مشرق نامہ) – ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ محمد سبحان نے ہاتھ کے اشاروں اور موبائل ایپلی کیشن کی مدد سے گاڑی چلانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایجادات معذور افراد کے لیے ڈرائیونگ کو زیادہ قابلِ رسائی اور خود مختار بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
سبحان نے وضاحت کی کہ گاڑی میں نصب ایک چھوٹے سے ڈیوائس کے ذریعے مکمل کنٹرول موبائل فون پر منتقل ہو جاتا ہے، جہاں انگلیوں کی حرکت گاڑی کو کمانڈ دیتی ہے۔ ان کے بقول اس ایجاد کا مقصد معذور افراد کو موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ موبائل بیسڈ جیسچر کنٹرول سے آزادانہ طور پر گاڑی چلا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ ہم حیرت انگیز ٹیکنالوجی سے گھرے ہوئے ہیں اور ہماری زندگی کو آسان بنانے والی ہر شے کے پیچھے ایک تخلیقی ذہن کی محنت شامل ہوتی ہے۔ چاہے وہ گھروں اور دفاتر میں استعمال ہونے والی اشیا ہوں، موبائل فونز یا دفاعی ساز و سامان، کاریں یا بحری و فضائی جہاز — یہ سب ہماری زندگی کو سہل بنانے کے لیے تخلیق کیے گئے ہیں۔
سبحان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یا آٹو موبائل انڈسٹری کی معاونت حاصل ہو تو اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے اور تجارتی بنیادوں پر بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی ایجادات اس امر کو اجاگر کرتی ہیں کہ پاکستان کے نوجوان تخلیقی حل کے ذریعے حقیقی سماجی مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔ اگر ایسے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو یہ نہ صرف معذور افراد کو بااختیار بنائیں گے بلکہ ملک کو شمولیتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں مقام دلانے میں بھی مددگار ہوں گے۔

