بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی سرحد پر تیسرے فریق کی تعیناتی کا سوال ہی پیدا نہیں...

ایرانی سرحد پر تیسرے فریق کی تعیناتی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نائب وزیر خارجہ آرمینیا
ا

یر یوان (مشرق نامہ) – آرمینیا کے نائب وزیر خارجہ وہان کوستانیان نے کہا ہے کہ ایران-آرمینیا سرحد پر کسی تیسرے فریق کے سکیورٹی دستے تعینات کرنے کا امکان بالکل "ناقابلِ تصور” ہے۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کو پریس ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ کوستانیان نے اس موقع پر اس امن معاہدے پر روشنی ڈالی جس پر آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پشینیان اور آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے 8 اگست کو وائٹ ہاؤس میں دستخط کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمینیا کے وفد نے اس معاہدے کے دوران ایران کے تمام خدشات کو مدنظر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

معاہدے کے تحت 27 میل طویل "ٹرمپ روٹ” ٹرانزٹ راہداری قائم کی جائے گی جو آذربائیجان کو اس کے ناخچیوان ایکسکلیو سے آرمینیا کے جنوبی حصے کے راستے ملائے گی۔ یہ خطہ ایران کی شمالی سرحد سے متصل ہے اور اسے امریکہ کو 99 برس کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی کے لیے لیز پر دیا جائے گا۔

ایران نے اس معاہدے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں امن کا خیرمقدم کرتا ہے، تاہم غیر ملکی مداخلت کے نتائج کے حوالے سے متنبہ بھی کیا ہے۔ تہران نے زور دیا ہے کہ وہ غیر ضروری مداخلت کے خدشات سے بچنے کے لیے خطے کی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کوستانیان نے کہا کہ سب سے پہلے، جس اعلامیے کی ہم بات کر رہے ہیں، اس میں چار نہایت اہم اصولوں یعنی خودمختاری، ارضی سالمیت، دائرہ اختیار اور باہمی عملداری کا حوالہ موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ تمام خدشات جو ماضی میں ایران اور آرمینیا کو ماورائے علاقہ راہداری کے حوالے سے تھے، اب پوری طرح ختم ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا میں جو دوسری تشویش ظاہر کی گئی کہ اس مواصلاتی راہداری کے قیام کے بعد ایران-آرمینیا سرحد پر تیسرے فریق کے فوجی تعینات ہوں گے، وہ درست نہیں ہے۔ ان کے مطابق: ہم کسی قسم کے سکیورٹی دستوں کی اس منصوبے کے علاقے میں تعیناتی نہ تو متوقع سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس کی پیش بینی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ منصوبہ ایران کے لیے نئے مواقع کھولتا ہے کیونکہ عمومی معاہدہ مواصلاتی روابط کے فروغ کے بارے میں ہے۔

آرمینیائی نائب وزیر خارجہ نے زور دیا کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان مواصلاتی روابط کے باہمی کھلنے سے اندرونی، دوطرفہ اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ ملے گا۔

قابلِ ذکر ہے کہ کئی دہائیوں تک آذربائیجان اور آرمینیا کاراباخ کے تنازع میں الجھے رہے، جو اگرچہ نسلی آرمینیائی باشندوں کے کنٹرول میں تھا لیکن عالمی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ ستمبر 2023 میں آذربائیجانی افواج نے صرف 24 گھنٹوں کی کارروائی میں اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین