چولپون-آٹا (مشرق نامہ) – ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے مسائل خود حل کریں اور کسی بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے قفقاز اور وسطی ایشیا میں مشترکہ مفادات کو اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ علاقائی امن و استحکام خطے کے اپنے ممالک کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
محمد رضا عارف نے یہ بات جمعہ کے روز کرغیزستان کے شہر چولپون-آٹا میں یوریشین اکنامک یونین (EAEU) کے وزرائے اعظم کے اجلاس کے موقع پر روسی وزیراعظم میخائل میشوسٹن سے ملاقات کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی حکمتِ عملی غیر ملکی مداخلت سے اجتناب پر مبنی ہے، بالخصوص خطے کی جغرافیائی سیاست میں۔ ان کے مطابق قفقاز اور وسطی ایشیا کے ممالک امن، استحکام اور سلامتی کے ساتھ مل جل کر رہ سکتے ہیں اور انہیں بیرونی طاقتوں کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آذربائیجان اور آرمینیا نے واشنگٹن میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد تقریباً چار دہائیوں پر محیط تنازع کو ختم کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی سرحد کے قریب زنگیزور راہداری کی نگرانی ایک امریکی نجی ادارہ کرے گا، جس پر تہران نے خاص تشویش ظاہر کی ہے۔
عارف نے یکطرفہ رویے کی مخالفت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ، روس کی طرح، عالمی امور میں امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کرتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ علاقائی ممالک اپنی مشکلات خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
قفقاز کی تازہ پیش رفت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران ہر اُس اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے جو کشیدگی کو کم کرنے، سمجھوتے کو فروغ دینے اور ہمسایہ ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے قیام میں مددگار ہو۔
ایران کے ایٹمی مسئلے پر بات کرتے ہوئے عارف نے کہا کہ تہران نے ہمیشہ اپنے پُرامن جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات اور اعتماد سازی کا راستہ اپنایا ہے، تاہم مغربی ممالک نے اس معاملے کو سیاسی بنا دیا ہے۔
انہوں نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی طرف سے "اسنیپ بیک میکانزم” کو فعال کرنے کی دھمکیوں پر بھی بات کی، جس کے نتیجے میں ایران پر سلامتی کونسل کی تمام پابندیاں دوبارہ عائد ہو سکتی ہیں۔ نائب صدر کے مطابق قانونی نقطہ نظر سے تینوں یورپی ممالک کو اس معاملے میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اور ان کی تجاویز دراصل امریکہ کے غیر اصولی مؤقف کو تسلیم کرنے کے مترادف ہیں۔
عارف نے مزید کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے دوران، صہیونی رژیم نے امریکہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ایران پر ایک ایسی جارحیت کی جو نہ منطقی طور پر جائز تھی اور نہ ہی قانونی طور پر۔
انہوں نے غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی پر اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی رژیم فلسطینی عوام کو ان کے جینے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے ایران اور روس کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر توانائی، سیاحت، ٹرانسپورٹ، ریلویز اور ٹرانزٹ راہداریوں کے شعبوں میں، جنہیں رواں سال جنوری میں دستخط شدہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری معاہدے کے تحت وسعت دی جا رہی ہے۔
روسی وزیراعظم میشوسٹن نے اس موقع پر کہا کہ حالیہ برسوں میں ماسکو اور تہران کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق ایران اور یوریشین اکنامک یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا نفاذ ایران کے خطے کے ممالک سے تعلقات بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے شمال-جنوب راہداری کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
میشوسٹن نے سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت سیاحت کے شعبے میں بھی ایران-روس تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
قفقاز کی تازہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام علاقائی ممالک کو چاہیے کہ وہ اچھے ہمسایہ تعلقات کی بنیاد پر روابط قائم کریں اور مل کر خطے کا مستقبل تعمیر کریں۔

