بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیمزاحمت خطے کیلیے ایک عظیم اثاثہ ہے: ایران کے سیکورٹی چیف علی...

مزاحمت خطے کیلیے ایک عظیم اثاثہ ہے: ایران کے سیکورٹی چیف علی لاریجانی
م

تہران (مشرق نامہ) – ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل کے سیکریٹری اور سینیئر عہدیدار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ مزاحمت خطے اور اسلامی دنیا کے لیے ایک "عظیم اثاثہ” ہے، اور اس وقت مزاحمتی گروہ اپنے فیصلوں میں "پختگی” کے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں۔

حالیہ دنوں میں عراق اور لبنان کے دورے پر گئے لاریجانی نے المیادین ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تہران مزاحمت کو خطے میں ایک متحد اور سیاسی طور پر بالغ قوت کے طور پر دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت خطے کے ممالک اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے، اور جہاں بھی ہو، اس کی حمایت کی جانی چاہیے۔ مزاحمت سب کے لیے ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی حمایت فرقہ وارانہ بنیادوں پر نہیں ہے۔ ان کے بقول: ہم حماس کی حمایت کرتے ہیں جو ایک سنی مزاحمتی تحریک ہے، اور حزب اللہ کی بھی جو ایک شیعہ مزاحمتی قوت ہے۔ ہمارا مؤقف فرقہ وارانہ نہیں ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران مزاحمتی گروہوں یا دیگر ممالک کے داخلی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتا، بلکہ حزب اللہ اور حماس جیسے گروہ "فیصلہ سازی میں مکمل پختگی حاصل کر چکے ہیں”۔

لاریجانی نے کہا کہ تاریخ دیکھ لیں، ہم نے کبھی انہیں کچھ مسلط نہیں کیا۔ وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور ہم ان سے بھائیوں کی طرح تعلق رکھتے ہیں۔

لبنان میں انہوں نے صدر جوزف عون اور پارلیمانی اسپیکر نبیہ بری سمیت اعلیٰ سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب حزب اللہ پر امریکہ-اسرائیل منصوبے کے تحت ہتھیار ڈالنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے، حالانکہ حزب اللہ کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف اہم رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیل کی 12 روزہ جارحیت میں ناکامی

لاریجانی نے حالیہ 12 روزہ اسرائیلی مسلط کردہ جنگ پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اپنے اسٹریٹیجک اور ٹیکٹیکل دونوں مقاصد میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے جنگ شروع کی تھی اور وہی اسے ختم کرنے پر مجبور ہوا۔

13 جون کو اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس میں فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملے، اعلیٰ فوجی افسران، سائنس دانوں اور عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ شامل تھی۔ امریکہ نے بھی ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر حملوں میں حصہ لیا۔

جوابی کارروائی میں ایران کی مسلح افواج نے جدید میزائلوں کے ذریعے اسرائیلی فوجی اور صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور امریکہ کے قطر میں ایک اسٹریٹیجک ایئر بیس کو بھی ہدف بنایا۔

بارہ دن بعد اسرائیل کو بالآخر واشنگٹن کی تجویز پر یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرنا پڑا۔

لاریجانی نے انکشاف کیا کہ جنگ کے پہلے دن انہیں موساد کی طرف سے قتل کی دھمکیاں دی گئیں جن پر انہوں نے "مناسب جواب” دیا۔

انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قائدانہ حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنگ کا توازن توڑ دیا اور ایسے فوجی کمانڈر کی طرح کردار ادا کیا جو براہِ راست آپریشن روم میں رہنمائی کر رہا ہو۔

لاریجانی کے مطابق: جب امریکیوں نے بے شرمی سے کہا کہ تمہیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے، تو رہبر انقلاب نے پوری قوت کے ساتھ جواب دیا کہ ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ہم تمہارا مقابلہ طاقت سے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ کا مقصد اسلامی جمہوریہ کو گرانا تھا، مگر نتیجہ الٹ نکلا اور ایران کے اندرونی مخالفین بھی ریاست کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔

"ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا”

لاریجانی نے امریکی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن طاقت کے زور پر نہیں بلکہ قوموں کی آزادی اور خودمختاری پر قائم ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی غصے کی وجہ ان کا یہ نقطۂ نظر ہے کہ امن طاقت کے ذریعے قائم کیا جائے۔ (سابق امریکی صدر) ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ طاقت کے ذریعے امن چاہتے ہیں، لیکن ہمارا نظریہ مختلف ہے۔

ان کے بقول: یا تو کوئی ملک سمجھ لے کہ جنگ لاحاصل ہے اور مذاکرات کی طرف آئے، جو مثبت ہے؛ یا پھر مذاکرات کو اگلی جنگ کی تیاری کے طور پر استعمال کرے، جو دھوکہ دہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا، برخلاف کچھ ممالک کے جو امریکی دباؤ کے سامنے جھک گئے۔

مزید کہا کہ عالمی منظرنامہ اب کثیر قطبی (multipolar) دنیا کی طرف بڑھ رہا ہے، "دنیا اب یک قطبی نہیں رہے گی۔ کیا وہ چین کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کیا وہ پوتن پر اپنی مرضی مسلط کر پائے ہیں؟ ہمیں بھی خود کو ان کے لیے آسان شکار نہیں بنانا چاہیے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین