بیروت (مشرق نامہ) – لبنان میں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے زور دے کر کہا ہے کہ مزاحمتی تحریک اسرائیلی قبضے کے خاتمے تک ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حزب اللہ کے اسلحے سے متعلق بیروت حکومت کا فیصلہ داخلی تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بات جمعہ کو اربعین امام حسینؑ کے موقع پر ایک خطاب میں کہی۔ امام حسینؑ، جو نواسۂ رسول اکرمؐ اور تیسرے امام ہیں، 680ء میں کربلا کے معرکے میں یزید کے جابرانہ لشکر کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔
شیخ قاسم نے کہا کہ جب تک قبضہ قائم ہے اور جارحیت جاری ہے، مزاحمت اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے عہد کیا کہ حزب اللہ ’’باطل‘‘ کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی اور امریکہ و اسرائیل کو دورِ حاضر کا یزید قرار دیا۔
لبنانی کابینہ کی جانب سے حزب اللہ کے اسلحے سے متعلق حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت امریکی حکم پر عمل کر رہی ہے اور اسرائیلی منصوبے کی خدمت کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ امریکہ۔اسرائیل منصوبے کے خلاف لڑے گی اور انہیں فتح پر مکمل یقین ہے۔
شیخ قاسم نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ داخلی تنازع کی مکمل ذمہ داری لبنانی حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تنازع نہیں چاہتے لیکن کچھ قوتیں اس کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ فوج کو داخلی تنازع میں نہ گھسیٹا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ اور امل تحریک نے حکومتی فیصلے کے بعد سڑکوں پر نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اگر ترمیم نہ کی گئی تو احتجاج کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر مقابلہ مسلط کیا گیا تو حزب اللہ اس کے لیے تیار ہے۔
شیخ قاسم نے زور دے کر کہا کہ یہ فیصلہ، جس کے تحت لبنان، اس کی مزاحمت اور عوام کو دفاعی ہتھیاروں سے محروم کرنے کی بات کی جا رہی ہے، اس کا مطلب مزاحمتی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو قتل کے لیے آسان ہدف بنانا اور انہیں گھروں سے بے دخل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اسرائیلی فوجیوں کو لبنانی سرزمین سے نکالنا چاہیے تھا، نہ کہ مزاحمت کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا۔
انہوں نے کابینہ پر زور دیا کہ وہ ملک کو دشمن کے حوالے کرنے کے بجائے جارحیت کے خلاف حکمتِ عملی اور تعمیر نو کے اقدامات پر غور کرے۔ ان کے بقول اسرائیل ایک ایسا دشمن ہے جس کی ہوسِ قبضہ ختم نہیں ہوتی اور امریکہ ایک ایسا جابر ہے جس کی لالچ کی کوئی حد نہیں۔
شیخ قاسم نے کہا کہ یہ ’’انتہائی سنگین‘‘ فیصلہ لبنانی آئین کی بھی خلاف ورزی ہے، جس کے مطابق کوئی ایسی اتھارٹی جائز نہیں جو بقائے باہمی کے معاہدے کی نفی کرے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت مزاحمت کے ہتھیاروں کو غیر قانونی قرار نہیں دے سکتی، کیونکہ مزاحمت کی قانونی حیثیت طائف معاہدے اور شہداء کے خون سے آتی ہے، ’’نہ کہ تم سے‘‘۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مزاحمت نے لبنان کی خودمختاری کے تحفظ اور اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
واضح رہے کہ 5 اگست کو لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے فوج کو سال کے اختتام تک ایسا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا جس کے تحت ہتھیار صرف ریاست کے پاس رہیں۔ اس فیصلے کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے جو دہائیوں سے ملک کو بیرونی جارحیت، خصوصاً اسرائیلی دشمن سے محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
دو دن بعد کابینہ کے اجلاس میں لبنانی حکام نے اس امریکی تجویز پر مزید غور کیا اور اس کے ’’مقاصد‘‘ کی توثیق کی۔

