مشرق وسطیٰ (مشرق نامہ) –
انتہا پسند دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے نہایت قابلِ مذمت اقدام میں 2002 سے قیدِ تنہائی میں رکھے گئے ممتاز فلسطینی سیاسی رہنما مروان برغوثی کے گانوت جیل کے سیل میں جا کر انہیں جارحانہ انداز میں مخاطب کیا۔
برغوثی کو فلسطینی عوام میں ایک وحدت بخش شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گارڈز اور کیمروں کی نگرانی میں ہونے والی اس مڈبھیڑ کے دوران وہ واضح طور پر پریشان نظر آئے۔
اس موقع پر بن گویر نے کھلے عام کہا کہ جو کوئی اسرائیل کے عوام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے گا، جو ہمارے بچوں کو قتل کرے گا، جو ہماری عورتوں کو قتل کرے گا، ہم اسے مٹا دیں گے۔ تم ہمیں شکست نہیں دے سکتے۔
اس دھمکی آمیز پیغام نے فوری طور پر فلسطینی حقوق کے علمبرداروں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سخت مذمت کو جنم دیا، جنہوں نے اسے برغوثی کی زندگی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔
فلسطینی اسیران و سابق اسیران کمیشن کے سربراہ رائد ابو الحمص نے بن گویر کے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک علانیہ دھمکی ہے جو اس وزیر کے خطرناک عزائم کو ظاہر کرتی ہے، جس کا ماضی فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر اُکسانے کے واقعات سے بھرا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بن گویر نے کیمروں کے سامنے قیدیوں کو اذیت دی ہے اور اس کے ریکارڈ میں نفرت اور نسل پرستی سے بھرے کئی جرائم موجود ہیں۔ ایسے رہنما پر حملہ کرنے کی جرات کرنا، جو ابو القسام جیسے مقام کا حامل ہو، تمام سرخ لکیروں کی خلاف ورزی ہے اور ہمیں اس کی جان کے حوالے سے سخت تشویش ہے۔
ابو الحمص نے فلسطینیوں اور بین الاقوامی اداروں دونوں سے برغوثی کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
برغوثی، جو فلسطینی مزاحمتی جدوجہد میں اپنے کردار کے باعث پانچ بار عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، بدستور فلسطینی سیاست میں ایک اہم ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔
قید کے باوجود ان کی فلسطینی عوام میں وسیع حمایت برقرار ہے اور انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو تقسیم شدہ دھڑوں کو متحد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کی رہائی طویل عرصے سے مزاحمتی گروہوں کا مطالبہ رہی ہے اور اسے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی موجودہ قیادت کے لیے ایک خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔
مئی 2024 میں فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں، جن میں اسرائیل کے ساتھ رابطوں کے ذمہ دار حسین الشیخ بھی شامل تھے، نے ثالثوں کو اشارہ دیا تھا کہ وہ برغوثی کی رہائی کے حق میں نہیں ہیں۔
مروان برغوثی کے خاندان نے بن گویر کی دھمکی کے بعد ان کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اسرائیلی وزیر کے جارحانہ رویے کے نتیجے میں برغوثی کو ان کے سیل ہی میں قتل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان کی شکل و صورت میں آنے والی تبدیلیوں، ان کے چہرے پر جھلکتی تھکن اور بھوک سے ہمہ وقت لاحق اذیت سے بھی لرزہ براندام ہیں۔
مروان برغوثی کی اہلیہ فدویٰ برغوثی، جو ایک معروف فلسطینی وکیل اور کارکن ہیں، نے سوشل میڈیا پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے شوہر کی حالتِ زار پر گہری تشویش اور جذباتی کرب کا اظہار کیا۔
انہوں نے لکھا کہ یہ سچ ہے — میں نے آپ کو پہچانا ہی نہیں، نہ آپ کے نقوش کو صاف دیکھ سکی۔ شاید میرا ایک حصہ یہ ماننے سے انکاری ہے کہ آپ کے چہرے اور جسم پر جو کچھ جھلک رہا ہے، آپ اور دوسرے اسیران نے جو کچھ سہا ہے، وہ سب حقیقت ہے۔
فدویٰ نے اپنے شوہر کے حوصلے اور فلسطینی کاز سے وابستگی کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ آپ عوام کا حصہ ہیں؛ آپ جہاں بھی ہوں، وہیں آپ ان کے درمیان ہیں، ان میں سے ہیں، ان کے ساتھ ہیں۔ آپ کی تقدیر ان ہی کی تقدیر سے بندھی ہوئی ہے۔
جیسے جیسے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، برغوثی کے خلاف بن گویر کی دھمکیوں اور فلسطینی حقوق کے وسیع تر تناظر کے اثرات خطے میں نہایت اہم مسئلہ بن کر ابھر رہے ہیں۔

