بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیلبنانی حکومت کا امریکی و اسرائیلی دباؤ پر جھکنا غداری قرار

لبنانی حکومت کا امریکی و اسرائیلی دباؤ پر جھکنا غداری قرار
ل

صنعاء (مشرق نامہ) – رہبرِ انقلاب نے لبنانی حکومت کی جانب سے امریکی تجویز، جو اسرائیلی دشمن کی ہدایات پر مبنی ہے، کو قبول کرنے پر سخت تنقید کی اور اسے لبنان سے غداری، خودمختاری سے دستبرداری اور لبنانی عوام کی توہین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ نہایت واضح اور کھلا ہوا ہے۔

اپنے جمعرات کے خطاب میں سید عبدالملک الحوثی نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی دشمن لبنان کے ساتھ اپنے معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کو مسلسل دہرا رہا ہے اور بین الاقوامی ضامنوں کی کوئی پروا نہیں کر رہا۔ انہوں نے لبنان میں صیہونی خلاف ورزیوں کو "ہر لحاظ سے کھلی جارحیت” قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لبنانی ریاست اور اس کے تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہ لبنان کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی تجویز لبنان کے مفاد میں نہیں بلکہ اس کے لیے خطرہ ہے، جس کا مقصد داخلی خلفشار کو ہوا دینا اور لبنانی حکومت کے کردار کو "اسرائیل کا پولیس مین” بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تجویز کو اپنانا آزاد لبنانی فیصلہ نہیں بلکہ اسرائیلی و امریکی فیصلہ سمجھا جانا چاہیے۔

رہبر انقلاب نے عرب حکومتوں پر بھی نکتہ چینی کی کہ وہ امریکی اور صیہونی دباؤ کے سامنے شرمناک کمزوری اور تیز رفتاری سے جھک جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مفادات امت کے لیے نقصان دہ ہیں اور اسرائیل کے ساتھ کوئی مشترکہ مفاد نہیں، صرف اس کے یکطرفہ فوائد ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی دشمن لبنان کو اس واحد ہتھیار سے محروم کرنا چاہتا ہے جو اسے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق لبنانی فوج اسرائیل کے خلاف لبنان کا دفاع نہیں کرے گی اور نہ ہی حکومتی سطح پر کوئی سیاسی فیصلہ دشمن کے مقابلے کے لیے سامنے آئے گا، جیسا کہ واقعات نے بارہا ثابت کیا ہے۔

سید عبدالملک نے کہا کہ لبنان کا حقیقی مفاد مزاحمت میں ہے، جس نے 40 سالہ تجربے میں اپنی کامیابی ثابت کی ہے۔ ان کے مطابق لبنان کے لیے بہتر یہی ہے کہ مزاحمت کو سرکاری اور عوامی حمایت حاصل ہو، بجائے اس کے کہ اسرائیلی دشمن سے وابستہ دھڑے اس کے خلاف برسرِ پیکار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کی سرکاری پالیسیاں اسرائیلی دشمن کے سامنے سر جھکانے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے والی ہیں، جسے انہوں نے "ہر لحاظ سے شرمناک” قرار دیا۔ ان کے مطابق اسرائیل لبنان کو غیر مسلح کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے کمزور رکھا جا سکے اور اپنی راہ میں حائل حقیقی رکاوٹ کو ختم کیا جا سکے۔

رہبر انقلاب نے زور دیا کہ مسئلہ مزاحمت کے ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ اسرائیلی ہتھیاروں میں ہے، جو بچوں اور عام شہریوں کو قتل کرتے ہیں، گھروں کو تباہ کرتے ہیں اور وسائل لوٹتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امت کے عوام اور حکومتیں متحد ہو کر اسرائیلی اسلحے کے خلاف کھڑی ہوں اور دشمن کو مسلح کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس نعرے نے کچھ مغربی ممالک پر اثر ڈالا ہے، چنانچہ جرمنی سمیت چند ممالک نے غزہ میں اسرائیلی جرائم پر عالمی غم و غصے کے بعد دشمن کو اسلحہ کی ترسیل معطل کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا: اگر امت سرکاری اور عوامی سطح پر یکجا ہو جائے اور سیاسی و اقتصادی اقدامات کے ساتھ میدان میں نکلے تو کیا ہوگا؟ ان کے مطابق ایسی تحریک مغربی معاشروں پر دباؤ ڈالے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی ہتھیار صرف خطے ہی نہیں بلکہ عالمی سلامتی اور استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ لبنانی حکومت اظہارِ یکجہتی پر حساسیت دکھاتی ہے اور جو بھی لبنان کی فوجی یا سیاسی حمایت کرے اسے "لبنانی امور میں مداخلت” قرار دیتی ہے، مگر اسرائیلی جرائم و جارحیت کے سامنے ذلت آمیز اطاعت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل لبنان میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ مداخلت نہیں بلکہ "قبضہ، خلاف ورزی، قتل اور مکمل خودمختاری کی پامالی” ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض لبنانی حکام حزب اللہ، مزاحمت اور لبنانی عوام کے خلاف بھی بغض رکھتے ہیں اور اسرائیلی منطق کو اپناتے ہیں، اسرائیلی احکامات پر عمل کرتے ہیں جبکہ اظہارِ یکجہتی کو رد کرتے ہیں اور خود کو "خودمختار” ظاہر کرتے ہیں، جسے انہوں نے "قابلِ نفرت” کہا۔

اپنی تقریر میں انہوں نے ان لوگوں کو خطاب کیا جو اپنے عوام اور آزادی کے مجاہدوں کے خلاف اسرائیلی ہدایات پر جھکتے ہیں کہ تم خودمختار نہیں ہو۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر لبنانی حکومت اس قدر امریکی و اسرائیلی دباؤ کے سامنے جھک رہی ہے تو وہ اپنے عوام کو لبنان کے حقیقی دشمن سے کیسے بچائے گی؟ ان کے مطابق دشمن لبنانیوں کو سازش قبول کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ امریکی اور اسرائیلی مطالبہ ہے جسے بغیر مخالفت کے نافذ کیا جانا چاہیے۔

اس تناظر میں رہبر انقلاب نے کہا کہ امت کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں، تاکہ وہ اسرائیلی خطرے کے خلاف اپنا دفاع نہ کر سکیں، "صیہونی منصوبے” کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گمراہ، ناشکرے اور غدار اس مسئلے کو امت کے آزاد اور باعزت لوگوں کے ہتھیاروں میں تلاش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اصل خودمختار وہ ہیں جو اپنے وطن کا دفاع کرتے ہیں اور جارحیت کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اصل مسئلہ اسرائیلی ہتھیاروں میں ہے اور امت کو اس کے دفاعی وسائل سے محروم کرنے میں ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جو لوگ فرقہ وارانہ اور علاقائی فساد کو ہوا دیتے ہیں وہ اسرائیلی دشمن کی خدمت کر رہے ہیں۔” ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کا تسلط ہماری امت کی آزادی، خودمختاری اور اہم مفادات کے زیاں کا باعث ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ لبنانی حکومت کا امریکی و اسرائیلی احکامات کے سامنے جھک جانا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ لبنان کا دفاع نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ ہماری حکومتوں، افواج اور سکیورٹی اداروں کو اپنے احکامات نافذ کرنے والے آلات میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ اسرائیلی دشمن کے ساتھ سکیورٹی کوآرڈینیشن کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ نہ اپنے عوام کا تحفظ کرتی ہے اور نہ ان کے حقوق کا دفاع۔ بلکہ یہ فعال طور پر اور علانیہ فلسطینی آزادی کے متوالوں کے خلاف اسرائیلی دشمن کے ساتھ تعاون کرتی ہے اور مظلوم فلسطینیوں کے قتل و اغوا میں شریک رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ تمام علاقائی حکومتیں، افواج اور سکیورٹی ادارے صیہونیت کی خدمت کریں۔ ان کے مطابق یہ کردار محض سرنڈر سے بڑا سانحہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ہماری حکومتوں، افواج، سکیورٹی فورسز اور ملکوں کے اندر موجود حامی جماعتوں کو اپنے عوام اور اوطان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس کے خلاف مزاحمت کی اپیل کی اور کہا کہ "ایسے ایلیٹ، ذرائع ابلاغ کے نمائندے اور زہریلے قلم جو اسرائیلی دشمن کے حق میں پروپیگنڈا کرتے ہیں اور اس کے مخالفین کو نشانہ بناتے ہیں، ان کا مقابلہ کیا جائے۔

شام کی صورتحال پر

شام کے بارے میں رہبر انقلاب نے کہا کہ اسرائیلی دشمن ہر شکل میں اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور ان گروہوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے جو شام کے علاقوں پر قابض ہیں۔ دشمن جنوبی شام میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، گویا یہ خطہ اسی کا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی دشمن جنوبی شام کو خالی کرانا اور بلا مزاحمت اس پر قبضہ جمانا چاہتا ہے۔

سید عبدالملک نے کہا کہ اسرائیلی دشمن جنوبی شام میں فوجی گشت کرتا ہے، ناکے لگاتا ہے اور گھروں پر چھاپے مارتا ہے، لوگوں کو تنگ کرتا ہے۔ دشمن کی یہ کارروائیاں تمام معاہدوں سے بڑھ کر ہیں اور عملی طور پر یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ امن نہیں بلکہ صرف سرنڈر چاہتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین