منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیبھارتی اپوزیشن کا اسرائیلی سفیر پر رکن پارلیمنٹ کی توہین کا الزام

بھارتی اپوزیشن کا اسرائیلی سفیر پر رکن پارلیمنٹ کی توہین کا الزام
ب

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)بھارتی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) نے اسرائیلی سفیر کی جانب سے رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی وادرا کے سوشل میڈیا بیان پر توہین آمیز ردعمل کی شدید مذمت کی ہے۔

پریانکا گاندھی نے منگل کو ایک پوسٹ میں غزہ میں اسرائیلی حکومت کے نسلی قتلِ عام پر بھارتی حکومت کی شرمناک خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر رووین آزر نے انہیں جھوٹا اور فریب کار قرار دیتے ہوئے اسرائیلی موقف دہرایا کہ عام شہریوں کی ہلاکتیں حماس کے رہائشی علاقوں میں چھپنے اور امداد لوٹنے کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔

آئی این سی رہنماؤں نے اس زبان اور لہجے کو بھارتی جمہوریت کی توہین قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔ پارٹی کے میڈیا سربراہ پون کھیڑا نے اسے "ناقابلِ قبول” اور "بے مثال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی سفیر کا براہِ راست ایک موجودہ رکن پارلیمنٹ کو نشانہ بنانا جمہوری وقار کے منافی ہے۔

پارٹی کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ اسرائیلی سفیر کے بیان کی مذمت کی جاتی ہے، اگرچہ انہیں توقع نہیں کہ بھارتی حکومت—جو غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر "انتہائی اخلاقی بزدلی” کا مظاہرہ کر رہی ہے—اس پر کوئی اعتراض کرے گی۔

ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے بھارت کی تاریخی فلسطینی حمایت یاد دلاتے ہوئے کہا کہ بھارت ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے فلسطین کو تسلیم کیا، جبکہ آج کئی مغربی ممالک ایسا کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

رکن پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے نے کہا کہ یہ شرمناک ہے کہ مودی حکومت نے اسرائیلی سفیر کو استعمال کر کے بھارتی اپوزیشن رکن پر حملہ کروایا۔ آغا سید روح اللہ مہدی نے سفیر کو "نسلی قتلِ عام کرنے والے ریاستی نمائندے” کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوری اقدار اور خودمختاری کی توہین ہے، جس پر سخت سفارتی اقدام ہونا چاہیے۔

اس سے قبل پریانکا گاندھی نے اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں صحافیوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ طاقت اور تجارت کے غلام بنے میڈیا کے اس دور میں یہ بہادر صحافی ہمیں اصل صحافت کا مطلب یاد دلا گئے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین