منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیامریکہ اور چین نے محصولات پر جنگ بندی میں توسیع کر کے...

امریکہ اور چین نے محصولات پر جنگ بندی میں توسیع کر کے کشیدگی کم کر دی
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) امریکہ اور چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی اشیا پر 24 فیصد اضافی باہمی محصولات کی معطلی کو مزید 90 دن کے لیے بڑھا رہے ہیں، جو 12 اگست 2025 سے نافذالعمل ہوگی۔ یہ اقدام دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان کشیدہ اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ فیصلہ منگل کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں کیا گیا، جو 28 اور 29 جولائی کو اسٹاک ہوم میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ ان مذاکرات کی قیادت چین کے نائب وزیراعظم ہی لی فینگ، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کی۔ یہ اقدام جنیوا (12 مئی) اور لندن (9-10 جون) میں ہونے والے پچھلے ادوار کی بنیاد پر ہے، جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک مذاکراتی فریم ورک کا حصہ ہیں کہ تجارتی تنازعات تجارتی جنگ میں نہ بدلیں۔

اس معاہدے کے تحت، دونوں ممالک 10 فیصد محصولات برقرار رکھیں گے جبکہ 24 فیصد ایڈ ویلورم محصولات کی معطلی جاری رکھیں گے۔ امریکی معطلی کا اطلاق چین کی سرزمین، ہانگ کانگ اور مکاؤ سے ہونے والی درآمدات پر ہوگا۔ واشنگٹن میں، یہ اقدام 2 اپریل 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر 14257 کے تحت نافذ کی گئی سخت محصولات میں نرمی لاتا ہے، جو وسیع اقتصادی دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ تھیں۔ بیجنگ اپنے ٹیکس کمیشن کے اعلان نمبر 4 (2025) کے تحت لگائے گئے جوابی محصولات میں ترمیم کرے گا اور جنیوا ڈیکلریشن کے مطابق بعض غیر محصولاتی اقدامات کو بھی معطل کرے گا۔

مارکیٹوں اور صنعت کاروں نے اس توسیع کا خیر مقدم کیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی بڑی پیش رفت کے بجائے ایک "عارضی جنگ بندی” ہے۔ واشنگٹن کے ایک بین الاقوامی تجارتی ماہر کے مطابق: "یہ امن معاہدہ نہیں بلکہ جنگ بندی ہے۔ دونوں حکومتیں مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے وقت خرید رہی ہیں، لیکن بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔”

یہ توسیع ایسے وقت میں آئی ہے جب دونوں معیشتیں اندرونی دباؤ کا شکار ہیں۔ امریکہ سست معاشی ترقی، بلند شرح سود، اور انتخابی موسم میں چین کے ساتھ تجارت جیسے سیاسی تنازعات کا سامنا کر رہا ہے۔ چین وبا کے بعد سست معاشی بحالی اور جائیداد کے بحران سے نبرد آزما ہے۔ بیجنگ کے ایک ماہر معاشیات کے مطابق: "فی الحال کوئی بھی فریق محصولات میں نئی شدت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔” امریکہ کے لیے یہ اقدام صارفین اور کاروبار پر اضافی مہنگائی سے بچنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جبکہ چین کے لیے یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور برآمدی منڈیوں کو محفوظ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

اسٹاک ہوم مذاکرات کے دوران، نائب وزیراعظم ہی لی فینگ نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مستحکم، صحت مند اور پائیدار چین-امریکہ اقتصادی تعلق نہ صرف دونوں ممالک کی ترقی کے اہداف کے لیے مفید ہے بلکہ عالمی معیشت کی نمو اور استحکام میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

ماضی میں لگائی گئی باہمی محصولات نے صارفین اور کاروبار کے لیے اخراجات بڑھا دیے، سپلائی چین کو متاثر کیا اور طویل مدتی غیر یقینی صورت حال پیدا کی، جس سے جدت اور سرمایہ کاری میں کمی آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ امریکی سیاستدان محصولات کو آمدنی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے منفی اثرات — بشمول کم معاشی پیداوار اور سست ترقی — فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔

سال کے اوائل میں طے پانے والی محصولات کی جنگ بندی کے نتیجے میں کئی شعبوں — جیسے الیکٹرانکس، مشینری اور زرعی مصنوعات — میں کشیدگی کم ہوئی، اور درآمد کنندگان و برآمد کنندگان نے اس وقفے کو معاہدے مستحکم کرنے، اسٹاک منظم کرنے اور قیمتوں کی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے استعمال کیا۔

سوئیڈن میں ہونے والی بات چیت کی اہمیت دو طرفہ تجارت سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ دونوں معیشتیں اسٹریٹجک مقابلے کے باوجود ایک دوسرے سے گہری طور پر جڑی ہوئی ہیں، اور ان کے فیصلوں کا اثر عالمی سپلائی چین اور کموڈیٹی مارکیٹوں پر پڑتا ہے۔ ایشیا اور یورپ کے وہ ممالک جو ان دونوں معیشتوں سے منسلک ہیں، محصولات میں اضافے کی اس عارضی روک سے قلیل مدتی استحکام حاصل کر سکتے ہیں۔

بیجنگ کے ایک تجارتی محقق کے مطابق: "محصولات کم کرنا اور تجارت کو مستحکم کرنا صفر جمع کھیل نہیں ہے، یہ ایسا بنیادی قدم ہے جو دونوں جانب کے کارکنوں، صارفین اور صنعت کاروں کے لیے پائیدار ترقی کا باعث بنتا ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین