بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانفوجی آپریشن سے باجوڑ کے 55 ہزار افراد بے گھر

فوجی آپریشن سے باجوڑ کے 55 ہزار افراد بے گھر
ف

پشاور (مشرق نامہ): خیبر پختونخوا اسمبلی کو پیر کے روز آگاہ کیا گیا کہ باجوڑ کے ماموند تحصیل کے مختلف علاقوں سے فوجی آپریشن کے باعث تقریباً 55 ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں، جبکہ اچانک نافذ ہونے والے کرفیو میں تقریباً چار لاکھ مقامی باشندے محصور ہیں۔

ایوان میں امن و امان کی صورتحال پر بحث کے دوران، اپوزیشن جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رکن نثار باز نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن سے بے گھر ہونے والے افراد کو حکومت کی عدم توجہی کے باعث شدید مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق نہ صوبائی اور نہ ہی وفاقی حکومت نے ان متاثرین کی ضروریات پوری کرنے کا کوئی انتظام کیا ہے۔

انہوں نے کرفیو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً پوری آبادی کرفیو کی وجہ سے محصور ہے، جس نے ان کی نقل مکانی روک دی ہے۔ متاثرہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اور بعض مقامی سیاسی جماعتوں کی مدد سے عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں، کچھ نے اسکولوں میں اور کچھ نے خیمے لگا کر پناہ لی ہے، لیکن انہیں بنیادی سہولتیں، خاص طور پر خوراک، دستیاب نہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن احمد کریم کنڈی نے صوبائی حکومت سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس دعوے پر وضاحت طلب کی کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور دہشت گردوں کو بھتہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت واضح کرے کہ 2010 سے دہشت گردی کے خلاف 700 ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے اور موجودہ مالی سال میں اسی مقصد کے لیے ملنے والے 130 ارب روپے کا کیا مصرف ہوگا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پر الزام لگایا کہ وہ باجوڑ کی صورتحال پر متضاد بیانات دیتے ہیں، ایک موقف اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں جبکہ دوسرا عوام میں۔ اپوزیشن نے تجویز دی کہ امن و امان کی صورتحال پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد سفارشات مرتب کرنے کے لیے مشترکہ کمیٹی بنائی جائے۔

حکومتی وزیر ڈاکٹر امجد اور تحریک انصاف کے رکن ملک عادل اقبال نے اس تجویز کی حمایت کی، جبکہ پی ٹی آئی رکن نے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ فوجی آپریشن کی مخالف رہی ہے اور متنازع امور کو جرگہ اور مذاکرات سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر منگل تک ملتوی کر دیا گیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین