اسلام آباد (مشرق نامہ):
عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال کے دوران پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ 7 اگست 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 70 سے زائد ممالک پر 10% سے 50% تک کے نئے "جوابی” ٹیرِفز نافذ کیے، جس سے عالمی سپلائی چینز ہل گئیں۔
پاکستان، کم لاگت مزدوری اور حالیہ تجارتی رعایت کی بدولت، اس تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔ 31 جولائی 2025 کے معاہدے کے تحت پاکستان پر امریکی ٹیرِف 29% سے کم ہو کر 19% کر دیا گیا، جبکہ بھارت پر روسی تیل خریدنے کے باعث 50% ٹیرِف عائد ہوا۔ اس سے پاکستان کی امریکی برآمدات 2024 کے 5.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر اگست 2026 تک 6.2 ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔
چین پر 34% ٹیرِف لگنے سے اس کی برآمدات میں 488 ارب ڈالر کی کمی متوقع ہے، جس سے پیدا ہونے والے خلا کو پاکستان بھر سکتا ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل، باسمتی چاول، سرجیکل سامان اور کھیلوں کے سامان میں۔ پاکستان کی مزدوری لاگت ($0.70 فی گھنٹہ) بھارت، ویتنام اور ملائیشیا کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
تاہم خام مال پر 20% ٹیرِف، توانائی کے اخراجات، سست کسٹم کلیئرنس اور انفراسٹرکچر کی کمزوریاں چیلنجز ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے خام مال کے ٹیرِف کو 10% کر دیا، توانائی سبسڈی دی، ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ آئی ٹی، حلال فوڈز اور گوشت کی برآمدات بڑھائیں اور سپلائی چین میں تنوع لایا، تو یہ موقع 5 سے 10 ارب ڈالر کی برآمدی اضافے میں بدل سکتا ہے۔

