بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانتجزیہ: بلوچستان کے معدنیات کے قانون نے وسائل کے کنٹرول پر بحث...

تجزیہ: بلوچستان کے معدنیات کے قانون نے وسائل کے کنٹرول پر بحث کو دوبارہ جنم دے دیا
ت

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 نے صوبے میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ مخالفت صرف بلوچ قوم پرستوں تک محدود نہیں، جو ہمیشہ سے صوبے کے وسائل کے وفاقی استحصال کی مزاحمت کرتے آئے ہیں، بلکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی اس قانون کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور اسے بلوچستان کے عوام کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جے یو آئی (ف) کے ارکان نے اسمبلی میں اس کی حمایت کی تھی، جس پر پارٹی قیادت نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیے۔

وسائل پر حق اور 18ویں ترمیم
18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اپنے قدرتی وسائل پر اختیار ملا، لیکن بلوچ قوم پرست حلقوں کے نزدیک یہ قانون وفاقی مداخلت کو دوبارہ بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ تجزیہ کار سید فضل حیدر کے مطابق اس قانون کے تحت وفاقی حکام بلوچستان کے معدنی منصوبوں پر سفارشات دے سکتے ہیں، جو 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔

حکومتی موقف اور سرمایہ کاری کے مواقع
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق یہ قانون باقاعدہ قانونی عمل کے بعد اکثریتی ووٹ سے منظور ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام معدنیات کے شعبے کو منظم کرنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ہے۔ انہوں نے حالیہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کا حوالہ دیا، جہاں پانچ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے اور ریکو ڈک منصوبے میں بلوچستان کا 25 فیصد حصہ اجاگر کیا گیا۔

مقامی خدشات اور محرومی کا احساس
صوبے کے کئی لوگ اس قانون پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔ بے روزگار گریجویٹ جاوید بلوچ کے مطابق 1952 میں دریافت ہونے والی سوئی گیس سے مقامی لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچا، اور اب بڑے منصوبے جیسے ریکو ڈک، سیندک اور دودر بھی عام عوام کی زندگی میں بہتری نہیں لا سکے۔

مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل فتح شاہ عارف کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون عوامی شکایات کو حل کرتا ہے تو اسے قبول کیا جانا چاہیے، ورنہ چیلنج کیا جانا ضروری ہے۔ لیکن ان کے بقول عام لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین