جنوبی وزیرستان (مشرق نامہ): سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں کلیئرنس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز پر شدید فائرنگ کے نتیجے میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور دو دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔
جھڑپ اس وقت ہوئی جب فورسز شمالی وزیرستان کے شووال مرہ علاقے سے جنوبی وزیرستان کے بالائی علاقے سرنرئی کی طرف بڑھ رہی تھیں کہ دہشتگردوں نے گھات لگا کر حملہ کر دیا۔
جھڑپ کے دوران سپاہی نوید نے شہادت پائی جبکہ نائیک امجد، سپاہی ابوبکر، سپاہی سیام، سپاہی ناصر اور سپاہی شوکت زخمی ہوئے۔ فورسز کی جوابی فائرنگ میں دو دہشتگرد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ شہید اور زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے رزمک میں فوجی مرکز منتقل کر دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور حکام حملہ آوروں کی شناخت اور حالیہ دہشتگردی کی لہر سے ممکنہ تعلقات جانچنے کے لیے انٹیلی جنس اکٹھی کر رہے ہیں۔
گزشتہ ایک سال میں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان کے بالائی اور زیریں علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بگاڑ آیا ہے۔
مقامی رہائشیوں نے بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جن میں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، تاوان کے لیے اغوا اور سیکیورٹی چوکیوں پر حملوں میں اضافہ شامل ہے۔
زیریں جنوبی وزیرستان کے برمل علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مسلح گروہوں نے وائی فائی سسٹمز کو ناکارہ بنا دیا ہے، جس سے عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے رابطے اور ہم آہنگی میں سنگین مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔

