جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیمقاومت کا ہتھیار ہمارا جائز حق ہے: اسامہ حمدان

مقاومت کا ہتھیار ہمارا جائز حق ہے: اسامہ حمدان
م

"جب تک قبضہ موجود ہے، مقاومت کا ہتھیار ایک جائز حق ہے؛ بلکہ مجموعی طور پر مقاومت فلسطینی عوام کا جائز حق ہے۔

فلسطینی یہ سمجھتے ہیں کہ مقاومت کا ہتھیار ہمارے منصوبۂ آزادی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر آزادی حاصل ہو جائے اور فلسطینی ریاست قائم ہو جائے، تو فطری بات ہے کہ یہ ہتھیار اس ریاست کے ہتھیار ہوں گے۔

ہم نے مذاکرات کے پچھلے دور میں نمایاں پیش رفت کی تھی، لیکن وٹکوف کے بیانات نے اُنہیں متاثر کیا۔ ثالثوں کی کوششیں جاری ہیں اور ہمیں جنگ بندی کے مذاکرات کے حوالے سے کسی نئی پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

غزہ کا محاصرہ ختم ہونا چاہیے اور انسانی و طبی امداد داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے؛ اس کے بغیر مذاکرات جاری رکھنا معقول نہیں۔

کسی بھی نئی تجویز میں ایک واضح اسرائیلی موقف شامل ہونا چاہیے، صرف بات چیت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ بعد میں اسرائیل اسے مسترد کر دیتا ہے۔

اگر کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مقاومت کے پاس ہتھیار ڈالنے کا آپشن موجود ہے تو وہ غلط فہمی میں ہیں۔ اور اگر دشمن سمجھتا ہے کہ اپنی جارحیت جاری رکھ کر فلسطینیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکتا ہے تو وہ بھی دھوکے میں ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین