مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے تحت وفاقی فنڈز میں کمی کے بعد 363 ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔
یونیورسٹی کے ترجمان نے منگل کو بتایا کہ پچھلے ہفتے مختلف شعبوں اور یونٹس میں عملے کی کٹوتی کے نتیجے میں یہ برطرفیاں ہوئیں۔ جون میں یونیورسٹی نے آئندہ سال کے لیے 140 ملین ڈالر کے بجٹ میں کمی کا اعلان کیا تھا، جس کی وجہ اعلیٰ تعلیم پر وفاقی پالیسی تبدیلیوں کو قرار دیا گیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد فلسطین حامی احتجاج کی اجازت دینے والے تعلیمی اداروں کے فنڈز میں کٹوتی کی دھمکی دی تھی۔ فنڈز میں کمی کے ساتھ ساتھ، یونیورسٹیوں پر ٹیکس بڑھانے کی تجاویز بھی دی گئیں۔
کئی امریکی جامعات، بشمول آئیوی لیگ ادارے، انتظامیہ کے دباؤ میں فلسطین حامی اساتذہ اور طلبہ کو معطل یا برطرف کر رہے ہیں تاکہ تحقیقات سے بچا جا سکے۔
ان اقدامات پر تعلیمی آزادی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومت اسرائیل پر تنقید کو غلط طور پر "یہود دشمنی” سے جوڑ رہی ہے اور فلسطینی حقوق کی وکالت کو "انتہاپسندی” قرار دے رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے یو سی ایل اے کے 330 ملین ڈالر سے زائد فنڈز بھی منجمد کر دیے، دعویٰ کیا کہ وہاں یہودی اور اسرائیلی طلبہ کے لیے محفوظ ماحول فراہم نہیں کیا گیا۔
7 اکتوبر 2023 کو غزہ پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکہ بھر میں "طلبہ انتفاضہ” کے نام سے مظاہرے ہو رہے ہیں، جن میں اسرائیلی اداروں سے تعلقات ختم کرنے، سرمایہ کاری واپس لینے، اور فلسطین مخالف کمپنیوں سے مالی تعلقات توڑنے کا مطالبہ شامل ہے۔

