مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے کیلیفورنیا یونیورسٹی، لاس اینجلس (یو سی ایل اے) سے فلسطین حامی سرگرمیوں کے معاملے پر ایک ارب ڈالر کے تصفیے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
مارچ میں ٹرمپ انتظامیہ نے 60 امریکی جامعات کو انتباہ دیا تھا کہ اگر حکومت نے یہ طے کر لیا کہ وہ اس کے بقول یہودی دشمنی (فلسطین حامی مظاہروں) کو روکنے میں ناکام رہی ہیں، تو ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس ہفتے کے آغاز میں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطین حامی سرگرمیوں کے باعث یو سی ایل اے کے لیے مختص 58 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے وفاقی فنڈز منجمد کر دیے ہیں اور مہم چلانے والوں پر ’’یہودی دشمن‘‘ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی کے صدر جیمز ملیکن، جو اس نظام کی 10 جامعات کی نگرانی کرتے ہیں، نے کہا کہ جمعہ کو یونیورسٹی انتظامیہ کو حکومت کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ اگر ایک ارب ڈالر کا تصفیہ فیس ادا کر دی جائے تو یو سی نظامِ تعلیم کے خلاف یہودی دشمنی کے الزامات ختم ہو سکتے ہیں۔
ملیکن نے کہا کہ بطور ایک عوامی یونیورسٹی، ہم ٹیکس دہندگان کے وسائل کے نگران ہیں اور اتنی بڑی ادائیگی ہمارے ملک کے عظیم ترین عوامی تعلیمی نظام کو تباہ کر دے گی، طلبہ اور تمام کیلی فورنینز کو نقصان پہنچائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے امریکہ میں عوام یو سی ایل اے اور یو سی نظام کے اہم کاموں پر انحصار کرتے ہیں، جو جان بچانے والی ٹیکنالوجیز اور طبی علاج فراہم کرتا ہے، امریکی معیشت کو بڑھاتا ہے اور قومی سلامتی کا تحفظ کرتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے یہ پیشکش کی ہے کہ تصفیے کی رقم قسطوں میں ادا کی جا سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یونیورسٹی کو 17 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ایک کلیمز فنڈ میں بھی جمع کرانا ہوں گے، تاکہ ان طلبہ اور دیگر متاثرہ افراد کو معاوضہ دیا جا سکے جنہیں مبینہ امتیازی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔
ملیکن کے مطابق، یو سی ایل اے، جو مسلسل امریکہ کی بہترین عوامی جامعات میں شمار ہوتی ہے، اس تجویز کردہ تصفیے کی شرائط کا جائزہ لے رہی ہے۔
2024 میں درجنوں امریکی جامعات میں فلسطین حامی احتجاجات شروع ہوئے، جو مشرقی ساحل سے مغربی ساحل تک پھیل گئے، تاکہ غزہ کی محصور آبادی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے، جنہیں صہیونی اسرائیلی حکومت بھوک اور قتل و غارت کا نشانہ بنا رہی تھی۔
صدر ٹرمپ کے رواں سال دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے تعلیمی ادارے ان کے نشانے پر ہیں۔ ٹرمپ اور ان کے دائیں بازو کے حامی تعلیمی شعبے کو ایلیٹ، ضرورت سے زیادہ لبرل اور ریپبلکن پارٹی کے نسلی قوم پرستانہ نظریے سے متصادم سمجھتے ہیں۔
ڈیموکریٹک کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم، جو اکثر ٹرمپ سے محاذ آرائی کرتے ہیں، نے کہا کہ یو سی کو ان کے مطالبات کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست اور غلط کا سوال ہے اور ہم درست فیصلہ کریں گے۔
نیوزم، جو یو سی کے بورڈ آف ریجنٹس کے رکن بھی ہیں، نے کہا کہ ملک کا مستقبل ان کے اس اقدام پر منحصر ہے۔ ان کے بقول یہ ہماری مسابقت، ملک کی قسمت اور خودمختاری کا معاملہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف ایک ناراض شخص کے مزاج کا معاملہ نہیں ہے جو اس وقت امریکہ کا صدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ انہیں درست فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا جائے، تاکہ وہ کسی اور ایسی لا فرم، کمپنی یا ادارے کی طرح نہ بن جائیں جو گھٹنے ٹیک دے، اپنی روح بیچ دے یا آسان غلط کو مشکل درست پر ترجیح دے۔

