مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) غزہ میں قحط اور غذائی قلت کے باعث مزید 11 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس سے بھوک سے ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 212 ہوگئی، جن میں 98 بچے شامل ہیں۔ یہ تعداد غزہ کی وزارتِ صحت نے بتائی ہے تاہم ماہرین صحت کے مطابق اصل ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ غذائی قلت مریضوں کو دیگر امراض کا شکار کر دیتی ہے، اور اسپتال سے باہر ہونے والی اموات کا اکثر اندراج نہیں ہوتا۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے جولائی کے آخر میں خبردار کیا تھا کہ غزہ میں قحط تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے، جہاں وسیع پیمانے پر بھوک، غذائی قلت اور بیماری بھوک سے اموات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسز کے مطابق جولائی میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 12 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار تھے۔
مہینوں سے جاری محاصرے کے بعد غزہ میں ہر تین میں سے ایک شخص کئی دنوں تک کھانے کے بغیر گزارنے پر مجبور ہے۔ مسلسل بمباری اور نقل مکانی کے احکامات خاندانوں کو بے گھر کر رہے ہیں اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں کم از کم 39 فلسطینی شہید اور 491 زخمی ہوئے۔ ان میں سے 21 افراد اس وقت مارے گئے جب وہ ایک متنازع امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ ادارے غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے مراکز سے امداد لینے کی کوشش کر رہے تھے۔
ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (MSF) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا کہ یہ نام نہاد امدادی مراکز منظم قتل کے مراکز میں بدل چکے ہیں۔ ادارے کی ڈائریکٹر راکیل ایورا کے مطابق: "GHF کے مراکز جو خود کو ’امداد‘ کے مراکز ظاہر کرتے ہیں، ظلم و بربریت کی لیبارٹری میں بدل چکے ہیں، اسے فوراً روکا جانا چاہیے۔”
اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے بھی بدھ کے روز جاری بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی افواج اور غیر ملکی فوجی ٹھیکیدار ان مراکز پر جمع ہونے والے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، جو خواتین، بچوں، معذور اور ضعیف افراد جیسے سب سے زیادہ کمزور طبقات کے لیے خاص طور پر ناقابلِ رسائی ہیں۔

