مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) دفتر خارجہ کے ترجمان سفیر شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان اور ایران نے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے 2 تا 3 اگست کے دورۂ پاکستان کے دوران دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے، علاقائی امن کے قیام اور فلسطینی و کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر اپنے اعلیٰ سطحی وفد، بشمول وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور دیگر وزراء کے ہمراہ پاکستان آئے اور صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں برادرانہ تعلقات، تجارتی حجم کو 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر کرنے، بارٹر ٹریڈ میں اضافہ، چاول، پھل اور گوشت کی برآمدات میں کوٹہ بڑھانے اور سرحدی مارکیٹوں کے فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں غزہ کے لیے 18ویں امدادی کھیپ روانہ کی ہے، جس میں مجموعی طور پر 1,815 ٹن خوراک، دودھ اور طبی سامان شامل ہے، اور پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی جاری رکھے گا۔ ترجمان نے یوکرین تنازع میں پاکستانیوں کی مبینہ شمولیت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدام کی برسی پر یومِ استحصال منانے، کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے اور اقوام متحدہ و او آئی سی کو خطوط لکھ کر مقبوضہ جموں و کشمیر کی بگڑتی انسانی حقوق کی صورتحال کو اجاگر کرنے کا ذکر کیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن، انصاف اور مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی کے عزم پر قائم ہے۔

