بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانسرحد پار کرنے کی کوشش ناکام، فورسز کے ہاتھوں 33 دہشت گرد...

سرحد پار کرنے کی کوشش ناکام، فورسز کے ہاتھوں 33 دہشت گرد ہلاک
س

راولپنڈی: پاک فوج نے افغانستان سے بڑی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے بلوچستان کے ضلع ژوب میں کم از کم 33 دہشت گرد ہلاک کر دیے، فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعہ کو اپنے بیان میں بتایا۔ علاقے میں موجود باقی دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 7 اور 8 اگست کی درمیانی شب ژوب کے سمبزا علاقے میں بھارتی پراکسی ’’فتنہ الخوارج‘‘ کے ایک بڑے گروہ کی نقل و حرکت کا پتہ چلا، جو پاک-افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش میں تھا۔ پاک فوج نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ان کی دراندازی کی کوشش ناکام بنائی، جس کے نتیجے میں 33 بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد مارے گئے اور بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔

حکومتی مؤقف کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) — جو ملک میں زیادہ تر دہشت گرد حملوں کی ذمہ دار ہے — کو باضابطہ طور پر ’’فتنہ الخوارج‘‘ قرار دیا گیا ہے اور اس گروہ کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی مالی و عسکری مدد حاصل ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’قوم اپنے بہادر سپاہیوں کی قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے‘‘ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ آپریشن ضربِ عضب کے بعد 2014 میں ٹی ٹی پی اور اس کے ذیلی گروہ افغانستان فرار ہو گئے تھے، جہاں انہوں نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مہلک مجید بریگیڈ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے پاکستان میں حملوں میں اضافہ کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی اپنے دہشت گرد حملوں میں قریبی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔

پاکستان بارہا افغان طالبان حکومت پر زور دے چکا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اس وعدے پر عمل کرے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، تاہم تاحال اس پر مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین