جمعرات, فروری 19, 2026
ہومپاکستاننادرا کی شناختی چوری اور ڈیٹا فراڈ سے ہوشیار رہنے کی وارننگ

نادرا کی شناختی چوری اور ڈیٹا فراڈ سے ہوشیار رہنے کی وارننگ
ن

اسلام آباد (مشرق نامہ) – نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ وہ غیر مجاز ویب سائٹس اور موبائل ایپلیکیشنز کے ساتھ اپنی ذاتی معلومات شیئر نہ کریں، کیونکہ ملک میں ڈیجیٹل شناختی چوری کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں نادرا نے ان جعلی پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے رحجان کی نشاندہی کی ہے جو خود کو نادرا ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کی ذاتی معلومات چوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے فراڈی پلیٹ فارمز عموماً کسی ترغیب یا انعام کا لالچ دے کر شہریوں سے حساس معلومات جیسے کہ شناختی کارڈ نمبر، بایومیٹرک ڈیٹا یا شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی حاصل کرتے ہیں، جنہیں بعد ازاں غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

نادرا نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل دور میں آن لائن ڈیٹا کا تحفظ صرف احتیاط نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان خطرات کے پیش نظر چوکنا رہیں۔

نادرا نے خاص طور پر شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ غیر ضروری طور پر شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیاں فراہم نہ کریں، اور نہ ہی کسی انجانے فرد یا پلیٹ فارم کو بطور ضمانت یہ فراہم کریں۔ اس کے بجائے، نادرا سے متعلق کسی بھی سروس کے لیے صرف سرکاری ‘پاک آئیڈنٹیٹی ایپلیکیشن’ استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ایک بڑے ڈیٹا لیک میں تقریباً 27 لاکھ پاکستانیوں کی معلومات چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس واقعے کے بعد نادرا نے سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کرنے اور عوامی آگاہی مہمات کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ اکثر سرکاری امور میں اصل شناختی دستاویزات ہی کافی ہوتی ہیں اور فوٹو کاپی کی ضرورت نہیں ہوتی — ایک غلط فہمی جسے فراڈی عناصر اکثر استعمال کرتے ہیں۔

نادرا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک پلیٹ فارم کی اطلاع دیں جو نادرا ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر رہا ہو، اور ایسے ذرائع سے رابطہ یا معلومات کی ترسیل سے اجتناب کریں۔

اس حوالے سے ایک مثبت پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ نادرا نے حال ہی میں وراثتی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا عمل بھی آسان کر دیا ہے۔ اب ورثاء ملک بھر میں قائم 186 وراثتی سہولت مراکز (Succession Facilitation Units) کے ذریعے باآسانی درخواست دے سکتے ہیں، جس سے رسائی میں بہتری اور دفتری پیچیدگیاں کم کرنے میں مدد ملے گی۔

نادرا نے اپنی ایڈوائزری کے اختتام پر شہریوں کو یاد دہانی کرائی کہ باخبر رہ کر اور صرف سرکاری ذرائع استعمال کر کے شہری نہ صرف اپنی شناخت کو محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ ڈیٹا چوری اور دھوکہ دہی سے بھی بچ سکتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین