مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) سلووینیا نے غزہ کی جنگ کے تناظر میں اسرائیلی بستیوں میں تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے اور فلسطینی عوام کے لیے 8 لاکھ 79 ہزار یورو مالیت کی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ حکومت نے بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں قائم غیرقانونی اسرائیلی بستیوں سے تعلق رکھنے والی مصنوعات کی درآمدات پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، اور اس پابندی کو چکمہ دینے کی کسی بھی کوشش کو روکا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سلووینیا نے اسرائیلی بستیوں کے لیے اپنی برآمدات پر بھی پابندی عائد کرنے پر غور کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وزیر اعظم رابرٹ گولوب نے اسرائیل کی جانب سے غیرقانونی بستیوں کی تعمیر، زمینوں پر قبضے، جبری نقل مکانی اور فلسطینیوں کے گھروں کی تباہی کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں قرار دیا۔ اس کے علاوہ، سلووینیا نے اسرائیلی وزرا اِتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا۔ جولائی کے آخر میں سلووینیا نے اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی تجارت پر مکمل پابندی عائد کی، جو کسی بھی یورپی ملک کی جانب سے اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ اگر یورپی یونین موثر اقدامات نہ کر سکی تو سلووینیا یکطرفہ طور پر مزید عملی اقدامات کرے گا۔

