مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)لیک ہونے والی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی انٹیلیجنس یونٹ 8200 نے مائیکروسافٹ کے Azure کلاؤڈ پلیٹ فارم پر لاکھوں فلسطینیوں کی فون کالز محفوظ کر رکھی ہیں، جنہیں غزہ میں فضائی حملوں کے اہداف کی نشاندہی، بلیک میلنگ اور بغیر کسی جواز کے گرفتاریوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ اگرچہ مائیکروسافٹ نے دعویٰ کیا کہ اس کی ٹیکنالوجی کو کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، لیکن یونٹ 8200 کے ذرائع نے تصدیق کی کہ افسران گنجان آباد علاقوں پر حملے کی منصوبہ بندی کے دوران، متاثرہ علاقے کے قریب کی کالز کا تجزیہ کرتے ہیں۔ پہلے یہ نظام صرف مغربی کنارے پر مرکوز تھا، لیکن اب اسے غزہ میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، Azure میں محفوظ شدہ ڈیٹا نہ صرف بلیک میلنگ بلکہ ان افراد کے خلاف گرفتاری یا قتل کے جواز کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جن کے خلاف بظاہر کوئی الزام نہ ہو۔ مائیکروسافٹ نے واضح کیا کہ اسے اس بات کی کوئی معلومات نہیں کہ یونٹ 8200 Azure پر کون سا ڈیٹا اسٹور کر رہا ہے، تاہم کمپنی نے اسرائیلی سیکیورٹی حکام کے ساتھ اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ اس کی ٹیکنالوجی کو غزہ میں کس حد تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کے مرکزی معمار یونٹ 8200 کے سابق سربراہ یوسی سریئل تھے، جنہوں نے نگرانی کے دائرے کو اس حد تک بڑھایا کہ اب ہر شخص کو ہر وقت ٹریک کیا جا رہا ہے، اور پرانی کالز کسی بھی وقت نکالی جا سکتی ہیں۔ اکتوبر 7 کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران اس سسٹم کو جدید AI ٹولز کے ساتھ جوڑا گیا، جس نے فضائی حملوں کے اہداف تجویز کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہید ہوئے اور ایک شدید انسانی بحران پیدا ہوا۔ مائیکروسافٹ کو اندرونی اور بیرونی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے، اور کئی افراد نے اس کی شراکت کو اسرائیلی جنگی جرائم میں ملوث قرار دیا ہے، جس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں فوجی مقاصد کے لیے کس حد تک اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں۔

