بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیہیومن رائٹس واچ: اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اسکولوں کو لوٹا...

ہیومن رائٹس واچ: اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اسکولوں کو لوٹا اور تباہ کیا
ہ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے اسرائیلی قبضہ فورسز پر جنوبی لبنان میں اسکولوں کو لوٹنے، تباہ کرنے اور دانستہ نشانہ بنانے کے الزامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

HRW کے مطابق، بین الاقوامی قوانین کے تحت تعلیمی اداروں سمیت شہری انفراسٹرکچر پر دانستہ یا اندھا دھند حملے ممنوع ہیں، اور جو افراد ان قوانین کی خلاف ورزی جان بوجھ کر یا غفلت سے کرتے ہیں، وہ جنگی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسکول، چاہے سرکاری ہوں یا نجی، بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت تحفظ یافتہ مقامات تصور کیے جاتے ہیں۔

‘سیف اسکولز ڈیکلریشن’ اور اسرائیلی انکار

لبنان نے Safe Schools Declaration پر دستخط کر کے جنگ کے دوران تعلیمی اداروں کے تحفظ اور ان کے عسکری استعمال سے گریز کا وعدہ کیا ہے، جب کہ اسرائیل نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے۔

HRW نے اسرائیل کے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اسکولوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو عسکری استعمال سے باز رکھے۔ ادارے نے بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور لبنان کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ تباہ شدہ علاقوں کی فوری بحالی کے لیے سرمایہ کاری کریں اور اس عمل میں شفافیت، جوابدہی اور بدعنوانی سے پاک نظام کو یقینی بنائیں۔

جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ICC کو اختیار دینے کی اپیل

HRW نے لبنان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ICC کو اپنے ملک میں اکتوبر 2023 کے بعد پیش آنے والے ممکنہ بین الاقوامی جرائم کی تحقیقات کے لیے دائرہ اختیار فراہم کرے۔

8 اکتوبر 2023 سے جنوبی سرحد پر اسرائیلی جارحیت کے بعد اسکولوں کی بندش، شہریوں کی جبری نقل مکانی اور اسرائیلی حملوں میں شدت دیکھی گئی۔ اسکول سال کا آغاز 9 اکتوبر کو ہونا تھا، لیکن گولہ باری کے باعث بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے۔ 30 ستمبر سے 7 اکتوبر 2024 کے دوران اسرائیلی زمینی فوج نے جنوبی لبنان پر حملہ کیا اور 100 سے زائد دیہات و قصبوں کو خالی کرنے کے احکامات دیے۔ نومبر میں فائر بندی کے باوجود، اسرائیلی افواج اب بھی کم از کم پانچ علاقوں پر قابض ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر سرحدی علاقوں میں دراندازیاں کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے مطابق، جنگ بندی کے بعد اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 260 لبنانی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 82,000 سے زائد افراد ابھی تک جبری طور پر بے گھر ہیں۔

HRW کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو تباہ کرنا اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا نہ صرف تعلیمی نظام پر کاری ضرب ہے بلکہ لبنان میں انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان فوری طور پر ICC کو مکمل دائرہ اختیار دے تاکہ ان سنگین جرائم کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین