مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) جرمنی میں شہریت کے حصول کو اسرائیل کے حق میں وفاداری کے اظہار سے مشروط کرنا ایک نئی اور خطرناک مثال قائم کر رہا ہے، جس کے ذریعے مہاجرین پر اخلاقی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ضمیر اور سیاسی نظریات کو ترک کر کے ریاستی بیانیے کے تابع ہو جائیں۔ برانڈنبرگ اور سیکسنی انہالٹ جیسے صوبوں نے شہریت کے خواہشمند افراد کے لیے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے وجود کے حق اورسلامتی کو تسلیم کریں — ایک ایسی ریاست جو نہ صرف لاکھوں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور مسلسل قبضے کی ذمہ دار ہے، بلکہ گزشتہ 21 ماہ سے غزہ میں کھلی نسل کشی اور قحط مسلط کیے ہوئے ہے۔ یہ شرط دراصل مخالف آوازوں کو دبانے اور فلسطینی مزاحمت کو مجرمانہ قرار دینے کی ریاستی کوشش کا حصہ ہے، جس کے تحت اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت تارکین وطن کو ایک سفاک انتخاب کا سامنا ہے: یا تو اپنی سیاسی و اخلاقی سچائی کو قربان کر کے شہریت حاصل کریں، یا پھر بنیادی حقوق، تحفظ اور عالمی نقل و حرکت سے محروم رہیں۔ یہ رویہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ جرمنی کے اندر بڑھتے ہوئے ریاستی جبر اور آزادی اظہار کی گھٹن کا بھی عکاس ہے۔

