مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) برطانیہ کی وزارت دفاع کی نگرانی میں غزہ پر فضائی جاسوسی کی پروازیں تاحال جاری ہیں، جن کا مقصد اسرائیل کو یرغمالیوں کی تلاش میں مدد فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے—اگرچہ غزہ میں انسانی بحران بدترین شکل اختیار کر چکا ہے اور عام شہری بھوک اور قتلِ عام کا سامنا کر رہے ہیں۔
ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی فوج کے خفیہ مشنوں میں غیرمعلوم تعداد میں RAF کے طیارے اور دیگر فوجی اثاثے شامل ہیں، جو اسرائیلی فوج کو ریئل ٹائم انٹیلیجنس فراہم کر رہے ہیں۔
برطانوی وزارتِ دفاع نے ان مشنوں میں استعمال ہونے والے مخصوص طیاروں کی تفصیلات ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل غزہ میں یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے نئی جنگی حکمتِ عملی تیار کر رہا ہے۔
پروازوں کی نگرانی کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ Shadow R1 جاسوسی طیارے، جو قبرص میں RAF اکروتیری سے آپریٹ کیے جا رہے تھے، غزہ پر کئی مشنز مکمل کر چکے ہیں، جن کی سرگرمی گزشتہ ماہ تک جاری رہی۔
Shadow R1 طیارہ برطانوی فضائیہ کا مخصوص جاسوسی پلیٹ فارم ہے، جو جدید الیکٹرو-آپٹیکل سینسرز اور الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹمز سے لیس ہوتا ہے، تاکہ حساس انٹیلیجنس ڈیٹا جمع کیا جا سکے۔
اگرچہ حالیہ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ Shadow R1 کی پروازیں عارضی طور پر رکی ہیں، لیکن وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ غزہ پر نگرانی کا عمل اب بھی جاری ہے۔ ایک RAF ذریعے نے عندیہ دیا ہے کہ مذکورہ طیارے واپس برطانیہ جا چکے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اب ان کی جگہ کون سے جاسوسی پلیٹ فارمز استعمال کیے جا رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب غزہ میں ہزاروں فلسطینی شہری، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، اسرائیلی بمباری، قحط اور طبی قلت کے باعث موت کے دہانے پر ہیں۔ اس کے باوجود برطانیہ کا اسرائیل کے ساتھ انٹیلیجنس تعاون انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

