مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) لبنان میں اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بدھ کے روز وزیراعظم نواف سلام کی حکومت کی جانب سے مزاحمت کا اسلحہ ختم کرنے کے منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اسے سنگین گناہ اور قومی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صریحاً اسرائیلی-امریکی مفادات کی خدمت ہے۔
اپنے بیان میں حزب اللہ نے خبردار کیا کہ یہ فیصلہ لبنان کو اسرائیلی جارحیت کے سامنے کمزور کرے گا اور اسرائیل کو وہ سب کچھ سیاسی طریقے سے دے گا جو وہ عسکری طور پر حاصل نہ کر سکا۔
تنظیم نے زور دیا کہ یہ اقدام نہ صرف لبنان کے قومی میثاق بلکہ حکومتی وزارتی بیان کی بھی خلاف ورزی ہے، جس میں طائف معاہدے کے مطابق اسرائیلی قبضے سے تمام لبنانی علاقوں کو آزاد کرانے، ریاستی خودمختاری کو برقرار رکھنے اور سرحدوں پر لبنانی فوج کی تعیناتی کا وعدہ کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مزاحمتی قوت اور اسلحہ کی حفاظت انہی ضروری اقدامات کا حصہ ہے، جن میں لبنانی فوج کو طاقتور بنانا بھی شامل ہے۔
حزب اللہ نے انکشاف کیا کہ یہ فیصلہ امریکی ایلچی ٹام باراک کے دباؤ کا نتیجہ ہے، جس کا ذکر کابینہ اجلاس میں کیا گیا اور وزیراعظم سلام نے بھی اسے تسلیم کیا۔ حکومت نے جمعرات کو امریکی تجویز پر مزید بحث کا اعلان کیا ہے اور لبنانی فوج کو سال کے آخر تک ہتھیار صرف ریاست تک محدود کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا: یہ فیصلہ مکمل طور پر اسرائیلی مفادات کے مطابق ہے اور لبنان کو بغیر کسی دفاع کے بے نقاب کر دیتا ہے۔
حزب اللہ نے صدر جوزف عون کے افتتاحی خطاب کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے جامع قومی دفاعی پالیسی کی تشکیل کا وعدہ کیا تھا تاکہ اسرائیلی قبضے کے خلاف ریاستی سطح پر مؤثر مزاحمت ممکن ہو۔
بیان میں اس حکومتی اقدام کو قومی خودمختاری پر براہِ راست حملہ اور ایک وسیع تر سرنڈر پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا۔
ادھر، امل تحریک نے کابینہ کے آئندہ اجلاس سے قبل حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس غلط فیصلے کو درست کرے اور قومی وحدت کی اصل روح کی طرف لوٹے۔ بیان میں کہا گیا: آنے والا اجلاس اصلاح کا موقع ہے، ہمیں پہلے جیسے لبنانی یکجہتی کے جذبے کی طرف واپس جانا چاہیے۔

