مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) صنعا گورنری کے مختلف اضلاع، بشمول ہمدان، نئی صنعا، سنحان، خولان، الحیمہ الداخلہ، اور الطیال میں فلسطینی عوام سے یکجہتی اور غزہ میں جاری نسل کشی و قحط کے خلاف بڑے پیمانے پر طلبہ ریلیاں نکالی گئیں۔
سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ نے ان جلوسوں میں بھرپور شرکت کی، یمنی اور فلسطینی پرچم لہرائے اور صیہونی قبضے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں فلسطینی عوام کے دفاع کے لیے قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ان مظاہروں کے دوران مقامی اور تعلیمی حکام، بشمول صنعا کے نائب گورنر برائے تعلیم و نوجوانان طالب دہان نے کہا کہ یہ ریلیاں یمنی عوام کے اصولی، ایمانی اور ثابت قدم مؤقف کی عکاس ہیں جو وہ غزہ کے ساتھ رکھتے ہیں، اور یہ کہ وہ قابض دشمن کے جرائم کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
صنعا کے طلبہ نے سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کے مؤقف پر فخر کا اظہار کیا، خاص طور پر صیہونی دشمن کے خلاف بحری ناکہ بندی کے چوتھے مرحلے کے آغاز کے فیصلے پر، جو غزہ کے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی حمایت میں کیا گیا۔
مظاہروں کے دوران جاری کیے گئے بیان میں عرب اور اسلامی حکومتوں کی خاموشی اور مجرمانہ چشم پوشی کی شدید مذمت کی گئی، اور کہا گیا کہ اس خاموشی نے اُنہیں فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے قتلِ عام اور قحط میں شریکِ جرم بنا دیا ہے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ عرب و اسلامی اقوام اور حکومتیں امریکی و صیہونی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، کیونکہ یہ ایک موثر اور طاقتور ہتھیارہے جو ہر فرد کے اختیار میں ہے۔
طلبہ نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، جن میں احتجاجی اجتماعات، شبانہ نشستیں، اور دشمن کے جرائم کو بے نقاب کرنے والی تقریبات شامل ہیں۔ بیان میں حضور نبی کریم ﷺ کے یوم ولادت کی بھرپور تیاری اور آپ ﷺ کی سیرت کو مشعل راہ بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے بعد پورے عرب و اسلامی دنیا میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اسرائیل کے وحشیانہ حملوں، مکمل محاصرے، اور قحط کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کے نتیجے میں دسیوں ہزار شہری، جن میں اکثریت خواتین و بچوں کی ہے، شہید ہو چکے ہیں۔ ان مظالم کے خلاف یکجہتی کے مظاہرے خاص طور پر یمن جیسے ممالک میں شدت سے دیکھے جا رہے ہیں، جہاں فلسطین کے لیے عوامی حمایت انتہائی گہری ہے۔
یمن میں غزہ کی جنگ ایک مشترکہ قومی مسئلہ بن چکی ہے، جس نے معاشرے کے تمام طبقوں کو متحد کر دیا ہے۔ صنعا میں قائم حکومت نے غزہ کے لیے کھلی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس میں بحری کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ عوام کی طرف سے ردِعمل بھی انتہائی مضبوط ہے، اور نوجوان، اساتذہ، علما، اور قبائلی رہنما مسلسل مظاہرے اور مہمات چلا رہے ہیں۔

