تحریر: محمد حسین معصوم زادہ
یوکرین تنازعے سے متعلق پابندیوں کے تناظر میں ایران، روس کے لیے ایک متبادل تجارتی راہداری فراہم کرتا ہے۔ اگر ایران کسی براہِ راست تنازعے کا شکار ہوتا ہے تو یہ راستے مزید غیرمحفوظ ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں روسی برآمدات مسدود ہو سکتی ہیں۔
سیاسی طور پر ایران مغرب کے دباؤ کے خلاف ایک جغرافیائی رکاوٹ کا کردار ادا کرتا ہے، خاص طور پر یوکرین تنازعے کے سیاق و سباق میں۔ ایران میں کوئی بحران مغرب کو مزید شہ دے گا، جس سے روس کی تنہائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مغربی سامراجیت کے خلاف اس کا بیانیہ کمزور پڑ سکتا ہے۔
نتیجتاً، ایران میں کسی جنگی بحران یا بیرونی خطرات میں شدت کا چین اور روس، دونوں پر گہرا اور کثیر جہتی اثر مرتب ہوگا۔ ایک کلیدی تزویراتی شراکت دار کا نقصان ان دونوں ممالک کے علاقائی اثرورسوخ اور مغرب کے خلاف جغرافیائی برتری کو زوال کی طرف لے جائے گا۔ توانائی اور نقل و حمل کے اہم راستے متاثر ہوں گے، آس پاس کے خطے مزید عدم استحکام کا شکار ہوں گے، اور دونوں ریاستوں کو اپنے معاشی اور سلامتی مفادات کے حوالے سے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہوگا۔
یہ صورتِ حال اس مزاحمتی محور (Axis of resistance) کو بری طرح کمزور کر دے گی، جس سے مغرب کے لیے اپنے اثرورسوخ کو وسعت دینے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اگر امریکہ ایران کی مزاحمت کو زیر کر لیتا ہے تو وہ اپنے وسائل کو زیادہ واضح انداز میں چین اور روس کے خلاف مرکوز کر سکے گا، اور روس کو خاص طور پر نیٹو دباؤ میں اضافے کے خطرے کا سامنا ہوگا — خاص طور پر مغرب کی جانب سے یوکرین کی نئی حمایت کے تناظر میں۔
یہ منظرنامہ چین اور روس دونوں کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنی جغرافیائی و اقتصادی حکمتِ عملیوں پر ازسرِ نو غور کریں، اور عالمی سطح پر اپنے تزویراتی توازن اور اثر کو قائم رکھنے کے لیے سخت رکاوٹوں کا سامنا کریں۔

