تحریر : محمد اکمل
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا طویل عرصے سے بیرونی مداخلت اور اندرونی انتشار کے باعث ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کا شکار رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ علاقائی سفارت کاری کو مشترکہ ورثے، باہمی تزویراتی مفادات اور دوطرفہ احترام کی بنیاد پر ازسرِ نو ترتیب دیا جائے۔ اقبال کا تہران کو "مشرق کا جنیوا” بنانے کا خواب کوئی دیوانگی نہ تھی بلکہ ایک عملی جغرافیائی متبادل کا خاکہ تھا — ایسا متبادل جو ابھی تک حقیقت نہیں بن سکا۔
یہ بات دہرانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور ایران کو رسمی ملاقاتوں اور تزویراتی ابہام سے آگے بڑھ کر ایک مستقل اور پائیدار راستہ اختیار کرنا چاہیے — ایک ایسا راستہ جو خطے میں تعاون پر مبنی نظام کی راہ ہموار کرے، تصادم پر مبنی نہیں۔ اور موجودہ نازک حالات میں، ایسا وژن رکھنا کسی طور بھی نقصان دہ نہیں بلکہ وقت کی اشد ضرورت ہے۔

