بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان اور چین کا الیکٹرک گاڑیوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کا...

پاکستان اور چین کا الیکٹرک گاڑیوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ
پ

بیجنگ (مشرق نامہ): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو پاکستان اور چین کے درمیان مستقبل کے تعاون کا ایک اہم شعبہ قرار دیا ہے۔

پیر کے روز پاکستانی سفارتخانے بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافی کے سوال کے جواب میں وزیر موصوف نے EV ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی اور چینی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک میں دلچسپی کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا:الیکٹرک گاڑیاں ایک بہت اہم شعبہ بن چکی ہیں۔ پاکستان، چین کی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، خاص طور پر سوڈیم آئن بیٹریز جیسے نئے جنریشن کے بیٹری ٹیکنالوجی کے شعبے میں، جو روایتی لیتھیم بیٹریز کے مقابلے میں کئی فوائد رکھتی ہیں۔

احسن اقبال نے اعلان کیا کہ 4 ستمبر کو چین میں ہونے والی پاک-چین بزنس کانفرنس اس قسم کے اشتراک کو فروغ دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے 250 سے زائد اور چین سے 200 سے زیادہ کمپنیاں شرکت کریں گی۔ ای وی، سولر انرجی، کیمیکلز اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں صنعتی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں EV مینوفیکچرنگ کے قیام سے چینی کمپنیوں کو کم لاگت میں پیداوار کا موقع ملے گا، جبکہ پاکستان کو فوسل فیول پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مقامی سطح پر EV کی تیاری میں چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا اور اسے توانائی کی بچت، روزگار کے مواقع اور پائیدار ترقی کی سمت ایک اسٹریٹیجک قدم قرار دیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کی نئی نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-2030 کے تحت 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد الیکٹرک گاڑیوں پر مشتمل ہوگی، جبکہ 2060 تک ٹرانسپورٹ سیکٹر کو نیٹ زیرو کاربن پر لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

یہ پالیسی ٹیکس میں چھوٹ، سبسڈی اور چارجنگ انفراسٹرکچر کی سہولتوں سمیت متعدد مراعات فراہم کرتی ہے اور مقامی پیداوار کو ترجیح دیتی ہے۔

چینی کمپنیاں جیسے BYD اور Chery پاکستان میں EV کی اسمبلنگ، بنیادی ڈھانچے کی توسیع، اور پاکستان کو علاقائی EV پیداوار مرکز بنانے کے عمل میں شامل ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین