جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیوہ امریکہ جو ہم جانتے تھے، ہمارے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے:...

وہ امریکہ جو ہم جانتے تھے، ہمارے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے: نیویارک ٹائمز
و

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس (BLS) کی سربراہ ایرکا میک انٹارفیر کو برطرف کیے جانے کے بعد ماہرین نے حکومتی اداروں میں سیاسی مداخلت اور آزادی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ کے اس اقدام کو ان کی صدارت کے سب سے خطرناک اقدامات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک رائے مضمون میں تھامس ایل فریڈمین نے لکھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک ایسے ادارے کی سربراہ کو ہٹانا، جو معاشی اعداد و شمار کی درستگی کے لیے جانا جاتا ہے، نہ صرف ادارہ جاتی خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ امریکی حکومت کے قابلِ اعتبار اداروں کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ میک انٹارفیر کی برطرفی اس وقت عمل میں آئی جب بی ایل ایس نے ایک ترمیم شدہ رپورٹ جاری کی، جس میں مئی اور جون کے روزگار کے اعداد و شمار کو کم ظاہر کیا گیا تھا۔

فریڈمین کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے بجائے اس کے کہ وہ میک انٹارفیر کا دفاع کرتے، ان کی برطرفی کی تائید کی۔ محنت کی وزیر لوری چاویز-ڈی ریمر، جنہوں نے پہلے بلومبرگ ٹی وی پر روزگار میں مثبت اضافے کا دعویٰ کیا تھا، نے بعد ازاں ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ میں @POTUS سے مکمل اتفاق کرتی ہوں کہ ہمارے روزگار کے اعداد و شمار منصفانہ، درست اور سیاسی مقاصد سے پاک ہونے چاہییں۔

اس اچانک تبدیلی پر وال اسٹریٹ جرنل نے سوال اٹھایا کہ اگر صبح کے وقت روزگار کے اعداد و شمار "مثبت” تھے، تو کیا شام تک وہ ناقابلِ اعتبار ہو گئے؟ اخبار نے لکھا٬ تو کیا وہ ڈیٹا جو صبح تک مثبت تھا، شام تک مشتبہ قرار دے دیا گیا؟

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کابینہ کے اہم ارکان اور اقتصادی مشیران نے صدر کے فیصلے پر خاموشی اختیار کی یا اس کی حمایت کی، جن میں وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، نیشنل اکنامک کونسل کے سربراہ کیون ہیسیٹ، لیبر سیکریٹری چاویز-ڈی ریمر اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ خاموشی خطرناک نظیر قائم کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کوئی ادارہ مستقبل میں خوش خبری دے گا تو اس پر بھروسہ کون کرے گا؟

بین الاقوامی سطح پر بھی ردِعمل سامنے آیا۔ لندن کے مشہور بانڈ تجزیہ کار بل بلین نے اپنی نیوزلیٹر "بلینز مارننگ پورج” میں لکھا کہ جمعہ، یکم اگست تاریخ میں وہ دن بن سکتا ہے جب امریکی خزانے کی مارکیٹ کا اعتماد ختم ہوا… اگر آپ ڈیٹا پر بھروسہ نہیں کر سکتے، تو پھر کس پر کریں گے؟ بلین نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ٹریتھ سوشیل کی ذیلی ایجنسی ‘وزارتِ حقیقت’ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پورے امریکہ میں مکمل روزگار حاصل ہو چکا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، ایرکا میک انٹارفیر کی برطرفی کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل مئی میں نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر ٹلسی گیبرڈ نے دو سینئر انٹیلیجنس اہلکاروں کو برطرف کیا جنہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے سے اختلاف کیا تھا کہ وینزویلا کی حکومت گینگ "ٹرین دے اراگوا” کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ ان اہلکاروں نے اس بنیاد پر 1798 کے "ایلین اینمیز ایکٹ” کے تحت بے دخل کیے جانے والے مشتبہ افراد کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے تھے۔

حال ہی میں، سائبر سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی کی سابق ڈائریکٹر اور ویسٹ پوائنٹ کی گریجویٹ، جین ایسٹرلی کو ویسٹ پوائنٹ میں تدریسی عہدہ دینے کی منظوری واپس لے لی گئی۔ یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب دائیں بازو کی سازشی تھیورسٹ لورا لوومر نے سوشل میڈیا پر انہیں "بائیڈن دور کی جاسوس” قرار دیا۔

ایسٹرلی نے لنکڈ ان پر ردِعمل دیتے ہوئے لکھا کہ میں نے اپنی پوری زندگی بطور محبِ وطن گزاری، کبھی اقتدار کے حصول میں نہیں بلکہ اس ملک کی خدمت میں جو میرے دل کے قریب ہے۔ انہوں نے ویسٹ پوائنٹ کے کیڈٹس کے لیے پیغام میں کہا کہ کیڈٹ دعا کہتی ہے کہ ہم ‘آسان غلط کے بجائے مشکل درست کا انتخاب کریں۔’ یہی اصول میری رہنمائی کرتا ہے۔ مشکل درست کبھی آسان نہیں ہوتا — اور یہی اصل مقصد ہے۔

تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ماہرین اور ادارہ جاتی آزادی کو ختم کرکے وفاداری اور سیاسی تابعداری کو ترجیح دے رہی ہے۔ فریڈمین نے سابق وزیر خزانہ جینیٹ ییلن کا حوالہ دیا جنہوں نے بی ایل ایس کی سربراہ کی برطرفی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ عمل ہے جو آپ صرف کسی بنانا ریپبلک میں دیکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔

کابینہ ارکان کی خاموشی، ادارہ جاتی روایات کی مسلسل خلاف ورزی، اور پیشہ ور ماہرین کی جگہ سیاسی وفاداروں کی تعیناتی نے ماہرینِ معیشت، تجزیہ کاروں اور عوامی خدمت کے علمبرداروں کو شدید خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ فریڈمین کے مطابق، اگر یہ رویہ پورے صدارتی دور میں جاری رہا، تو "جس امریکہ کو ہم جانتے تھے، وہ ختم ہو جائے گا — اور پھر اسے واپس لانا شاید ممکن نہ ہو۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین