مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– ڈنمارک کے تحقیقی ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق، چین نے تاریخ میں پہلی بار عالمی سطح پر امریکہ سے زیادہ مثبت تاثر حاصل کر لیا ہے۔ ’’2025 ڈیموکریسی پرسیپشن انڈیکس‘‘ کے مطابق، دنیا کے زیادہ تر ممالک اب چین کو امریکہ کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے جو عالمی تعلقات کے توازن میں بنیادی تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے۔
یہ سروے نِرا ڈیٹا اور الائنس آف ڈیموکریسیز فاؤنڈیشن نے اپریل 2025 میں 100 ممالک کے 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد سے کیا، جس میں امریکہ کی عالمی ساکھ میں نمایاں کمی اور چین کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا۔ 2024 میں امریکہ کی عالمی مقبولیت +22 فیصد تھی، جو 2025 میں -5 فیصد تک گر گئی، جبکہ چین کا مثبت امیج +14 فیصد برقرار رہا۔ اس طرح چین اور امریکہ کے درمیان عالمی سطح پر 19 پوائنٹس کا فرق سامنے آیا۔
رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ صرف 45 فیصد ممالک اب امریکہ کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جو گزشتہ برس 76 فیصد تھی۔ 96 میں سے 76 ممالک چین کو امریکہ کے مقابلے میں زیادہ مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔ صرف چند روایتی امریکی اتحادی جیسے اسرائیل، جنوبی کوریا، جاپان، پولینڈ اور یوکرین اب بھی امریکہ کے حق میں مضبوط مؤقف رکھتے ہیں۔
یورپ اور ایشیا میں بھی رجحانات میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ مغربی یورپی ممالک، جو ماضی میں امریکہ کے قریب رہے ہیں، اب چین کو زیادہ مثبت نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے خطے میں دیکھی گئی، جہاں مصر، الجزائر، پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک چین کو امریکہ پر ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ امریکہ کی دہائیوں پر محیط خارجہ پالیسی پر بڑھتے ہوئے عدم اطمینان اور چین کے اقتصادی و سفارتی ماڈل کی جانب ممکنہ جھکاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسی سلسلے میں مورنگ کنسلٹ کے تازہ اعداد و شمار، جیسا کہ ایکسیوس نے رپورٹ کیا، امریکہ کی عالمی مقبولیت میں مسلسل گراوٹ کی تصدیق کرتے ہیں۔ چین کی عالمی مقبولیت مئی کے آخر تک +8.8 تک پہنچ گئی، جبکہ امریکہ -1.5 پر گر گیا۔ یاد رہے کہ جنوری 2024 میں امریکہ کی مقبولیت +20 سے زائد تھی جبکہ چین منفی زون میں تھا۔ یہ کمی بالخصوص سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد تیز ہوئی، جب ان کی ’’یومِ آزادی‘‘ ٹیرف پالیسی نے عالمی سطح پر منفی اثر ڈالا۔
رپورٹ میں عالمی رہنماؤں کی انفرادی مقبولیت کا بھی تجزیہ کیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ، جو دنیا بھر میں 85 فیصد لوگوں کے لیے معروف ترین سیاسی شخصیت ہیں، 82 فیصد ممالک میں منفی امیج رکھتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ولادیمیر پیوٹن 61 فیصد جبکہ شی جن پنگ صرف 44 فیصد ممالک میں منفی تصور کیے جاتے ہیں۔ ٹرمپ کو جمہوری ممالک میں خاص طور پر ناپسند کیا جاتا ہے، جبکہ شی جن پنگ کے بارے میں دنیا بھر میں رائے نسبتاً متوازن ہے۔
عالمی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی دلچسپ رجحانات سامنے آئے ہیں۔ 100 میں سے 87 ممالک کے عوام نے فوجی اخراجات میں اضافے کے بجائے بین الاقوامی تعاون اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کو دفاعی ترجیح قرار دیا۔ کہیں بھی جبری فوجی بھرتی کو عوامی ترجیح نہیں ملی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا جنگ نہیں بلکہ سفارتی حل چاہتی ہے۔
ان نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا ایک ’’بعد از امریکہ‘‘ عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں چین کی اقتصادی ترقی، سفارتی حکمتِ عملی اور غیر مداخلت کی پالیسی زیادہ کشش رکھتی ہے۔ امریکہ کے گرد قائم اتحادی ڈھانچے، تجارتی تعلقات اور عالمی حکمرانی کے نظام، جو امریکی مرکزیت پر قائم تھے، اب ازسرنو جائزے کے متقاضی ہیں۔

