بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستانی ’کرائے کے فوجی‘ روس کے لیے لڑ رہے ہیں، زیلنسکی کا...

پاکستانی ’کرائے کے فوجی‘ روس کے لیے لڑ رہے ہیں، زیلنسکی کا دعویٰ
پ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ شمال مشرقی یوکرین میں تعینات ان کے فوجی غیر ملکی کرائے کے فوجیوں سے برسرپیکار ہیں، جن میں چین، پاکستان، تاجکستان، ازبکستان اور افریقی ممالک کے افراد شامل ہیں۔

انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:

"ہم نے کمانڈرز سے فرنٹ لائن کی صورتحال، وووچانسک کے دفاع، اور جنگ کی پیش رفت پر بات کی۔ اس محاذ پر ہمارے سپاہیوں نے چین، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور افریقی ممالک کے کرائے کے فوجیوں کی شرکت کی اطلاع دی ہے۔ ہم اس کا جواب دیں گے۔”

یہ دعویٰ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب زیلنسکی شمال مشرقی صوبہ خارکیف کے ایک محاذی علاقے کے دورے پر تھے، جہاں روسی افواج نے حالیہ مہینوں میں حملے تیز کیے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے تردید

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں اسلام آباد نے یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے کے الزامات کی بارہا تردید کی ہے۔

2023 میں بی بی سی سمیت متعدد میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے دو امریکی نجی کمپنیوں کے ساتھ 36 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کے اسلحے کے معاہدے کیے، جن کے تحت ہتھیار مبینہ طور پر یوکرین پہنچائے گئے۔

تاہم ان رپورٹس کو دفتر خارجہ، سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ، اور پاکستان میں روسی سفیر البرٹ پی خورِیو نے مختلف مواقع پر مسترد کیا تھا۔

چین، شمالی کوریا بھی زیرِ الزام

یہ پہلا موقع نہیں کہ زیلنسکی نے روس پر غیر ملکی جنگجو بھرتی کرنے کا الزام لگایا ہو۔ وہ پہلے بھی چین کے جنگجوؤں کو روسی جنگی کارروائیوں میں شامل کرنے کا الزام لگا چکے ہیں، جسے بیجنگ نے مسترد کیا تھا۔

اسی طرح شمالی کوریا پر بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے روس کے کورسک خطے میں ہزاروں فوجی تعینات کیے ہیں۔

زیلنسکی کے تازہ الزامات روس اور مغرب کے درمیان جاری پراکسی جنگ میں ایک اور پیچیدہ پہلو کو اجاگر کرتے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین