بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان اور ایران کا تعلقات مزید وسعت دینے پر اتفاق

پاکستان اور ایران کا تعلقات مزید وسعت دینے پر اتفاق
پ

صدر زرداری کا رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کا کشمیری عوام کی حمای پر شکریہ

اسلام آباد (مشرق نامہ) – صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان کی پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری سے ملاقات میں پاکستان اور ایران نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے وسیع اور باہمی مفاد پر مبنی شعبہ جات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

صدر زرداری نے صدر پزیشکیان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات برادرانہ نوعیت کے ہیں، جو مشترکہ مذہب، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا اور تنازعات میں شدت کو روکنے، اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے مربوط سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر زرداری نے علاقائی امور پر ایران کے اصولی مؤقف کو سراہا اور تہران کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مشکل مواقع پر ایران کی یکجہتی کو سراہا اور ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کے لیے ایران کے ساتھ قریبی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدر زرداری نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا بھی بھارتی غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام کے لیے مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

صدر زرداری نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی اور حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی قوم کی بہادری اور یکجہتی کو سراہا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان کا دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔

صدر پزیشکیان نے 12 روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی قیادت اور عوام کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات، اور پرامن حل کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ایران کے لیے حمایت کا اعادہ

قبل ازیں، ایرانی صدر پزیشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں دوطرفہ، علاقائی اور عالمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر صدر پزیشکیان کا وزیراعظم نے خیرمقدم کیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس کے بعد باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان محدود سطح پر بات چیت ہوئی، جس کے بعد وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوئیں۔

ان مذاکرات کے دوران وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، دیگر اہم وزراء اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے پاکستان اور ایران کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے ایرانی قیادت، مسلح افواج اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا، جنہوں نے 12 روزہ جنگ میں اسرائیلی جارحیت کا بہادری سے مقابلہ کیا۔

انہوں نے جنگ کے دوران ایرانی فوجی اہلکاروں، سائنسدانوں اور بے گناہ شہریوں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے ساتھ ایران کی مضبوط حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

صدر پزیشکیان نے جنگ کے دوران ایران کے ساتھ غیرمتزلزل حمایت پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایرانی قوم اس حمایت کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

وزیراعظم نے تجارت، روابط، ثقافت اور عوامی سطح پر رابطوں کے شعبوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان موجود وسیع تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس ضمن میں وزیراعظم نے پاکستان اور ایران کے درمیان جلد از جلد 22ویں مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کے انعقاد پر زور دیا، جو جلد متوقع ہے۔

گہرے، تاریخی تعلقات

اسی دوران، سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے ایرانی صدر سے ملاقات کی۔ ایرانی صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے چیئرمین گیلانی نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اخوت اور باہمی تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط کرے گا۔

ملاقات کے دوران، چیئرمین گیلانی نے اسرائیل کے ساتھ حالیہ تنازع میں ایران کی تاریخی کامیابی پر صدر پزیشکیان کو مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کے حقِ دفاع کو تسلیم کیا۔

ہماری پارلیمان نے ایران کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت میں ایک قرارداد منظور کی۔ ہم ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

گیلانی نے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کی پاکستانی کوششوں کا اعادہ کیا اور کہا کہ جنگ کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی قائم ہو گی۔

انہوں نے ایرانی پارلیمان میں صدر پزیشکیان کی تقریر کے دوران سنائی دینے والی "تشکر پاکستان” کی صداؤں کا بھی خصوصی ذکر کیا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان حقیقی اور پائیدار دوستی کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جموں و کشمیر کے مسئلے پر اصولی اور مستقل حمایت پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے، پارلیمانی تعاون کو وسعت دینے، اور تجارتی، اقتصادی و ثقافتی تبادلوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

چیئرمین گیلانی نے پارلیمانی سطح پر مضبوط روابط کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان-ایران پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے کردار کو سراہا، جو قانون سازی، مسلسل مذاکرات، اور عوامی رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین