اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستان اور ایران نے اتوار کے روز مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 12 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے۔
یہ پیشرفت ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی باضابطہ ملاقاتوں کے دوران ہوئی۔
معاہدوں کے تبادلے کی تقریب وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔ معاہدوں میں پودوں کے تحفظ و قرنطینہ، میر جاوہ-تفتان سرحدی گیٹ کے مشترکہ استعمال، سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، ثقافت، سیاحت، نوجوانوں، ذرائع ابلاغ، برآمدات، موسمیات، موسمی خطرات، میری ٹائم سیفٹی، فائر فائٹنگ، عدالتی معاونت، ہوائی خدمات، مصنوعات کی سند و جانچ کے اعتراف، 2025 تا 2027 سیاحت، اور آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کی تکمیل کی نیت پر مشتمل مشترکہ وزارتی بیان شامل تھے۔
وزیراعظم ہاؤس میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے منشور کی روشنی میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی حمایت کا اعلان کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت پرامن جوہری توانائی کے حق پر ایران کے اصولی مؤقف کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلااشتعال اور ناقابل جواز قرار دیا اور پوری پاکستانی قوم کی جانب سے ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ وزیراعظم نے ایرانی قیادت کی بہادری اور حکمتِ عملی کی تعریف کی، بالخصوص ان کے مؤثر جوابی میزائل حملوں کو سراہا جنہوں نے اسرائیلی دفاعی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔
وزیراعظم نے ایرانی جنرلوں، سائنس دانوں اور شہریوں کی شہادت پر تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔
خطے سے متعلق امور پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور ایران کے مشترکہ مؤقف کو اجاگر کیا۔ غزہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے فوری جنگ بندی کا عالمی مطالبہ دہرایا اور فلسطینی عوام کے لیے ایران کی ثابت قدم حمایت کو سراہا۔ انہوں نے فلسطینی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مؤقف کا ذکر بھی کیا۔
وزیراعظم نے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کی صورتحال کا بھی حوالہ دیا، جہاں کشمیری عوام بھی ظلم و ستم کا شکار ہیں، اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایران کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے کشمیریوں کی جدوجہد کی مسلسل حمایت کی ہے۔
دوطرفہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے ان متعدد معاہدوں کا ذکر کیا جو اقتصادی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے حالیہ اسرائیلی جارحیت کے دوران پاکستانی حکومت اور عوام کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور علامہ اقبال کے اشعار کے ذریعے پاکستان کے ساتھ اتحاد اور برادری کا پیغام دیا۔
انہوں نے غزہ میں اسرائیلی مظالم اور پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی صیہونی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون ضروری ہے تاکہ ان توسیع پسندانہ عزائم کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران پاکستان کو محض ہمسایہ نہیں بلکہ برادر ملک سمجھتا ہے۔ انہوں نے دو طرفہ تعلقات کو ہر سطح پر وسعت دینے کے لیے سنجیدہ کوششوں پر زور دیا اور دستخط شدہ معاہدوں کو ان کوششوں کا مظہر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات مذہب، ثقافت اور تاریخ پر گہری بنیادوں پر قائم ہیں، اور علامہ اقبال کے کلام میں مسلم اُمہ کے اتحاد کی جو بازگشت سنائی دیتی ہے، وہ آج بھی متعلقہ ہے۔
ایرانی صدر نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک تجارتی حجم کو موجودہ 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایران کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ اب تک کے دوطرفہ روابط میں پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے اپنی اور اپنے وفد کے لیے گرم جوشی سے کی گئی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔ ایرانی صدر نے وزیراعظم ہاؤس کے باغ میں یادگاری پودا بھی لگایا۔ وزیراعظم نے انہیں وفاقی کابینہ کے ارکان سے بھی متعارف کرایا۔
علاوہ ازیں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایوانِ صدر میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر زور دیا۔
صدر زرداری نے ایرانی صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مذہب، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی دیرینہ برادرانہ تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے ایران کے اصولی مؤقف کی تعریف کی اور مشکل وقتوں میں پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اسرائیل کی حالیہ جارحیت کی مذمت کی اور 12 روزہ جنگ میں ایرانی قوم کے عزم و حوصلے کو سراہا۔ صدر زرداری نے رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہمیشہ کشمیریوں کی حمایت کی۔
ایرانی صدر نے پاکستانی قیادت اور عوام کی یکجہتی کا شکریہ ادا کیا اور پرامن سفارتی حل کی پاکستانی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
اسی دوران چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایرانی صدر سے ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات، علاقائی امن اور بین المجالس تعاون کے فروغ پر بات چیت کی۔
انہوں نے ایرانی قیادت کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ رشتوں کو مزید مضبوط کرے گا۔ گیلانی نے ایران-اسرائیل حالیہ تنازع میں ایران کی تاریخی کامیابی پر مبارک باد دی اور کہا کہ پاکستان ان چند اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے ایران کے حقِ دفاع کو اقوام متحدہ کے منشور کے تحت تسلیم کیا۔ انہوں نے ایران کی خودمختاری اور سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے ہر سال ایرانی زیارت گاہوں پر پاکستانی زائرین کی میزبانی پر بھی ایران کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی صدر نے ایران-اسرائیل تنازع کے دوران پاکستان کی حمایت، خصوصاً پارلیمانی قرارداد کی تعریف کی، اور باہمی اعتماد، مشترکہ ورثے اور امن و تعاون کے عزم کو دہرایا۔
اس ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر عرفان صدیقی اور ایم این اے نوید قمر بھی شریک ہوئے۔ ملاقات کا اختتام خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کے مشترکہ وژن پر ہوا۔
اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایرانی صدر سے ملاقات میں پاکستان اور ایران کی اسمبلیوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے پارلیمانی تبادلے، قانون سازی، اقتصادی ترقی، سیکیورٹی اور علاقائی امن میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ اسپیکر نے رہبرِ انقلاب آیت اللہ خامنہ ای اور صدر پزشکیان کی قیادت کو سراہا اور 13 جون 2025 کو قومی اسمبلی کی متفقہ قرارداد کا حوالہ دیا، جس میں ایران سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا تھا۔
انہوں نے اسرائیلی جارحیت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور ایران کی خودمختاری و سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایران کی جانب سے آپریشن بنیان المرصوص کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔
ایرانی صدر نے پاکستانی حکومت کی یکجہتی اور میزبانی کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے اصولی مؤقف کو سراہا۔
درایں اثناء، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ایرانی وزیر صنعت، کان کنی و تجارت محمد آتابک سے ملاقات کی۔ دونوں وزراء نے زراعت، مویشی، توانائی اور بارڈر لاجسٹکس جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ایرانی وزیر برائے سڑک و شہری ترقی محترمہ فرزانہ صادق نے پاکستانی وزراء عبدالعلیم خان (مواصلات)، جام کمال خان (تجارت)، اور حنیف عباسی (ریلوے) کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں پاک-ایران دوستانہ تعلقات اور روڈ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال ہوا۔ ایران نے چین اور پاکستان کے ساتھ سلک روڈ منصوبے میں شمولیت اور گوادر-چاہ بہار روٹ کے ذریعے بحری تجارت بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ایران کو اسرائیل کے خلاف عظیم موقف اور کامیابی پر مبارک باد دی اور اکتوبر میں پاکستان میں منعقدہ وزارتی کانفرنس میں ایرانی وزیر کو شرکت کی دعوت دی۔
ایرانی وزیر نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کوئٹہ-زاہدان روٹ کو جدید بنانے کی تجویز دی۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اسلام آباد-تہران-استنبول ریلوے منصوبے پر نظرثانی اور کوئٹہ-زاہدان لائن کی بہتری کا وعدہ کیا۔
ایرانی وزیر محترمہ فرزانہ صادق نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

