جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیستمبر میں اقوام متحدہ میں فلسطین کو تسلیم کرنیکی تیاری کیوں؟

ستمبر میں اقوام متحدہ میں فلسطین کو تسلیم کرنیکی تیاری کیوں؟
س

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– تین بڑے مغربی ممالک، فرانس، برطانیہ اور کینیڈا، نے حالیہ دنوں میں ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ یہ عندیہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے آئندہ سیشن میں ستمبر کے دوران باقاعدہ اعتراف کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ستمبر کا یو این جی اے اجلاس اتنا اہم کیوں ہے؟ اور اگر ان ممالک نے فلسطین کو تسلیم کر لیا تو اسرائیل کا ردِعمل کیا ہو سکتا ہے؟ چین میڈیا گروپ (سی ایم جی) سے گفتگو میں نِنگشیا یونیورسٹی کے چائنا-عرب اسٹیٹس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر نیو شِنچُن نے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظرنامے پر روشنی ڈالی اور اس کے ممکنہ اثرات پر تبصرہ کیا۔

ایک علامتی اور تزویراتی لمحہ

پروفیسر نیو کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ دنیا کا سب سے بااختیار بین الاقوامی ادارہ ہے، اور ستمبر میں اس کی جنرل اسمبلی کا اجلاس سب سے اہم عالمی موقع ہوتا ہے۔ بہت سے ممالک کے سربراہان اس میں شرکت کرتے ہیں اور عالمی امور پر اپنے نظریات پیش کرتے ہیں۔ اگر فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان اسی موقع پر کیا جائے تو یہ اعلان سیاسی طور پر سب سے زیادہ وزن رکھے گا۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگرچہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی دونوں اقوام متحدہ کے کلیدی فیصلہ ساز ادارے ہیں، مگر فلسطین کے حق میں قراردادیں منظور کروانے میں سلامتی کونسل کو رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے، خاص طور پر امریکہ کی وجہ سے۔

اسی بنا پر، ان کے بقول، جنرل اسمبلی طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کروانے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے حصول کے لیے ایک اہم بین الاقوامی فورم کا کردار ادا کرتی آئی ہے۔ اس نے وقتاً فوقتاً فلسطینی ریاست اور کاز کے حق میں درجنوں قراردادیں منظور کی ہیں۔

اسرائیل پر بڑھتا ہوا عالمی دباؤ

پروفیسر نیو نے کہا کہ غزہ میں انسانی صورتحال بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، اور بین الاقوامی برادری کا اسرائیل پر دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد اسرائیل جلد ہی غزہ کے حوالے سے اپنا حتمی مؤقف واضح کرنے والا ہے۔

پروفیسر نیو کے مطابق، اسرائیل اب حماس کے ساتھ مرحلہ وار مذاکرات کا خواہاں نہیں رہا، بلکہ وہ ایک ہمہ گیر معاہدے پر زور دے رہا ہے، جس کے تحت تمام یرغمالیوں کو ایک ہی وقت میں رہا کیا جائے۔ اگر حماس نے اس سے انکار کیا، تو اسرائیل پورے غزہ میں ایک وسیع پیمانے کی فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔

انہوں نے اختتام پر کہا کہ عالمی دباؤ یا تو ایک مستقل جنگ بندی پر منتج ہو سکتا ہے یا اسرائیل کی جانب سے فوجی جارحیت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ فی الحال، دوسرا امکان زیادہ غالب دکھائی دیتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین